Bharat Express DD Free Dish

Future Ready India

جمہوریہ قبرص کے چیف سائنٹسٹ نے بھی نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمٹ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ سمٹ میں سامنے آنے والے خیالات سے واضح ہے کہ اے آئی زرعی میدان سے لے کر صحت کی دیکھ بھال تک مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور بھارت اس عالمی مکالمے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی اعلیٰ قدر، تخلیقی اور بامقصد کاموں کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ اس سے اختراع، صنعت کاری اور نئے شعبہ جات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مہارت سازی، از سر نو مہارت حاصل کرنے اور تاحیات تعلیم کو عوامی تحریک بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

چندرشیکھر نے اس سمٹ کو وزیر اعظم کے ’’انڈیا ٹیکاڈ‘‘ اور ’’سیکنڈ ویو‘‘ وژن کا اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی بھی بڑے پروگرام میں تنظیمی خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ملک میں اے آئی اپنانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی رفتار تیز ہو۔ 

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ لمحہ ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کی طرح ایک نئے ٹیکنالوجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ شروعات ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ملک اے آئی کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کرے گا۔‘‘

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بھارت اور دنیا بھر سے نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیاں، اختراع کار اور پالیسی ساز شریک ہوئے تاکہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر غور کیا جا سکے۔ جیو پویلین پر وزیراعظم کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے اے آئی منظرنامے کی تشکیل میں نجی شعبے کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا: ’’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ اگلے ماہ منعقد ہونے جا رہی ہے۔ دنیا بھر سے، خصوصاً ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اس سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت آئیں گے۔ یہ سمٹ اے آئی کے میدان میں بھارت کی ترقی اور کامیابیوں کو بھی اجاگر کرے گی۔‘‘

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کرن اڈانی نے تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین سال میں ریاست میں 10,000 کروڑ کی سرمایہ کاری کی ہے۔