Bharat Express DD Free Dish

government initiative

بھارت میں تقریباً 15 فیصد پائلٹ خواتین، عالمی اوسط صرف 5 فیصد کے آس پاس۔ حکومت کا مقصد صرف خاتون پائلٹوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ پورے ایوی ایشن ورک فورس میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی اصلاحات کو نافذ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی ماہر نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک ہائی پاورڈ ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔

مرکزی وزیر سکانتا مجمدار نے وزیراعظم کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کے لیے اقتدار صرف ایک اختیار ہوتا ہے، لیکن وزیراعظم مودی کے لیے یہ ایک ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا طلبہ کی سہولت کے لیے ہوائی اڈے پر انتظار کرنا ایسی قیادت کی مثال ہے جو شہریوں کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ جہاں ممکن ہو ان کے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو شامل کیا جائے۔ تاہم اس مقصد کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کی جائے گی، بلکہ موجودہ وسائل ہی استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کا اسکولی تعلیمی نظام اس وقت 14.71 لاکھ اسکولوں اور 24.69 کروڑ سے زائد طلبہ پر مشتمل ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ میں سفارشات کے نفاذ کے لیے 33 عملی اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں، جنہیں قلیل مدتی، متوسط مدتی اور طویل مدتی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

مردم شماری کے عمل سے 15 دن قبل شہریوں کے لیے خود اندراج (Self Enumeration) کی سہولت شروع ہو جائے گی، جس کے تحت لوگ اپنی سہولت کے مطابق وقت پر اپنی تفصیلات درج کرسکیں گے۔ اس عمل کے مکمل ہونے پر ایک خصوصی آئی ڈی فراہم کی جائے گی، جسے بعد میں تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

’بَستر 2.0‘ منصوبہ نہ صرف علاقے میں ترقی کی نئی بنیاد رکھے گا بلکہ اسے تعلیم، صحت، روزگار اور سیاحت کے میدان میں ایک مضبوط اور خود کفیل خطہ بنانے کی سمت اہم قدم ثابت ہوگا۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ درست اور ضروری معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی مردم شماری کی ٹیمیں گھر گھر جا کر اعداد و شمار جمع کریں گی، اس لیے عوامی تعاون نہایت ضروری ہے۔

یہ پورٹل انگریزی، ہندی سمیت 14 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اس معلومات کو صرف شماریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے ’’گیان بھارت مشن‘‘ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قدیم مخطوطات کو ڈیجیٹل شکل دی جا رہی ہے اور سائنسی طریقوں سے محفوظ کیا جا رہا ہے۔