Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit: وزیر اعظم مودی کے اے آئی وژن نے کیسے بدلی کسانوں کی زندگی؟ نندن نیلیکنی نے سنایا دلچسپ واقعہ

قومی دارالحکومت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران ٹیکنالوجی صنعت کے ماہر نندن نیلیکنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق وژن کی تعریف کرتے ہوئے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے حاضرین کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وزیر اعظم کے ایک خیال نے صرف چند ہفتوں میں لاکھوں ڈیری کسانوں کی زندگی میں عملی تبدیلی پیدا کر دی۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران ٹیکنالوجی صنعت کے ماہر نندن نیلیکنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق وژن کی تعریف کرتے ہوئے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے حاضرین کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وزیر اعظم کے ایک خیال نے صرف چند ہفتوں میں لاکھوں ڈیری کسانوں کی زندگی میں عملی تبدیلی پیدا کر دی۔ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے نیلیکنی نے کہا کہ وہ 8 جنوری کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے لیے گئے تھے جہاں بھارت میں اے آئی کے استعمال کو عام لوگوں، خصوصاً کسانوں تک پہنچانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات کے دوران سوال اٹھایا گیا کہ جب اے آئی صحت، مالیات اور صنعت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تو اسے مویشی پالنے اور ڈیری سیکٹر میں کیوں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

نیلیکنی کے مطابق وزیر اعظم نے اس موقع پر ایک سادہ مگر مؤثر خیال پیش کیا کہ اگر کوئی گائے یا مویشی بیمار ہو تو وہ خود اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتا، اس لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کی صحت، دودھ کی پیداوار اور تولیدی حالت کی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اسی روز وزیر اعظم کے دفتر میں ماہرین، ٹیکنالوجی ٹیم اور ڈیری ادارے امول کے نمائندوں کے ساتھ فوری میٹنگ منعقد کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حیرت انگیز طور پر 8 جنوری کو ہونے والی اس میٹنگ کے صرف 34 دن بعد، یعنی 11 فروری کو اے آئی پر مبنی ’’سرل ایپ‘‘ عملی طور پر لانچ کر دی گئی۔ یہ ایپ دنیا کی سب سے بڑی ڈیری کوآپریٹو تنظیم امول کے تقریباً 36 لاکھ کسانوں کے لیے تیار کی گئی، جہاں ہر سال دو ارب سے زائد دودھ کے لین دین ہوتے ہیں اور تقریباً چار کروڑ مویشی اس نظام کا حصہ ہیں۔

نیلیکنی نے کہا کہ آج ہزاروں دیہی خواتین سمیت لاکھوں کسان اس ایپ کے ذریعے اپنے مویشیوں کی صحت، حمل کی صورتحال، خوراک اور دودھ کی پیداوار سے متعلق درست اور فوری معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے کسانوں کو بروقت فیصلے لینے میں مدد دی ہے جس سے آمدنی میں بہتری اور نقصان میں کمی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا ایک خیال محض ایک ماہ کے اندر حقیقت میں بدل جانا بھارت میں اے آئی انقلاب کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ویسا ہی جوش محسوس ہو رہا ہے جیسا 30 دسمبر 2016 کو ہوا تھا جب حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے بھیم ایپ متعارف کرائی تھی، جس نے بعد میں عالمی سطح پر سب سے بڑے ادائیگی نظام کی شکل اختیار کر لی۔

نیلیکنی نے بتایا کہ آج بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے تحت تقریباً 50 کروڑ صارفین ہر ماہ 21 ارب سے زائد لین دین انجام دیتے ہیں، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت بھی اسی مرحلے پر کھڑی ہے جہاں سے بڑے پیمانے پر تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں اے آئی کو صرف صنعتی ترقی تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ اسے عام شہری، کسان، مزدور، طلبہ اور مریضوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس نظام کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ کسانوں کا ڈیٹا محفوظ رہے اور ملک کے اندر ہی استعمال ہو۔

نیلیکنی کے مطابق ڈیٹا خودمختاری اس منصوبے کا اہم پہلو ہے، جس کے تحت امول کا تمام ڈیٹا اسی ادارے کے پاس محفوظ رہتا ہے اور اسے بیرونی کنٹرول سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے چند مہینوں میں اسی طرز کے متعدد اے آئی ایپلی کیشنز سامنے آئیں گے جو دیہی معیشت کو نئی رفتار دیں گے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کو یہ راستہ دکھا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف بڑی کمپنیوں کے لیے نہیں بلکہ عام انسان کی زندگی آسان بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ سمت ہے جہاں سے اے آئی کی عالمی دوڑ کا اصل آغاز ہوگا اور بھارت اس میدان میں قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read