Bharat Express DD Free Dish

bilateral talks

کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، تجارت، سرمایہ کاری، فِن ٹیک، صحت، مہارت سازی اور پائیداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین میں ایس سی او اجلاس اور عالمی امور پر گفتگو، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، دہشت گردی کی مخالفت اور رابطے کے فروغ پر دیا زور، جاپان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم ایشیبا نے سینڈائی میں سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا دورہ کیا اور بھارت اور جاپان کے درمیان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے آخری بار اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر پیٹرولنگ معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اتفاق کیا کہ خصوصی نمائندے جلد ملاقات کر کے سرحدی امن اور حل طلب مسائل پر پیش رفت کریں گے۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔

بھارت اور فلپائن کے درمیان تعلقات تاریخی بنیادوں اور مشترکہ جمہوری اقدار پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مختلف شعبوں میں جاری ہے، جن میں دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلہ شامل ہیں۔