Bharat Express DD Free Dish

Global relations

ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔

ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔

ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

سمٹ کی رہنمائی تین بنیادی ستونوں عوام، سیارہ اور ترقی کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ ستون عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے بنیادی اصول بیان کرتے ہیں، جن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ انسان مرکز اے آئی، ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی، اور جامع معاشی و تکنیکی پیش رفت شامل ہیں۔

ٹیکنالوجی، بلیو اکانومی اور انڈیا-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت پر زور۔ یہ ملاقات حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی جس میں بھارت اور کروشیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی شراکت داری کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

کانگریس کا موقف واضح ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں خاموشی کمزوری کی علامت ہے اور موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نہ صرف تضاد کا شکار ہے بلکہ ملک کی خودمختاری اور وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔