امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چین امریکہ کے لیے خطرہ ہے اسی طرح امریکہ بھی چین کے لیے خطرہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “ہم انہیں دیکھتے ہیں، وہ ہمیں دیکھتے ہیں۔ دنیا بہت مسابقتی ہے، خاص طور پر جب بات امریکہ اور چین کی ہو”۔ ٹرمپ نے کہا کہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو محاذ آرائی میں الجھنے کے بجائے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی ادارے چین پر امریکی بجلی اور پانی کی فراہمی کے نظام میں خلل ڈالنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ امریکی صدر نے چین کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین تیزی سے نئے ہتھیار تیار کر رہا ہے اور وہ پانچ سال کے اندر روس اور امریکہ کے قریب جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سے جوہری ہتھیاروں میں کمی (تخفیف اسلحہ) کے بارے میں بات کی ہے۔
ٹرمپ نے چین اور روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے بارے میں کیا کہا؟
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ جاری رہے گا ،لیکن اسے جنگ یا دشمنی میں نہیں بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون کے ذریعے دونوں ممالک دنیا کو ایک بہتر سمت فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے پاس سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں، روس دوسرے نمبر پر ہے اور چین اس وقت تیسرے نمبر پر ہے، لیکن وہ بہت تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ تمام ممالک کو اب اپنے جوہری ہتھیاروں کو کم کرنے، یعنی تخفیف اسلحہ کے لیے کام کرنا چاہیے”۔
“ہم اس سیارے کو 150 بار تباہ کر سکتے ہیں” – ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ دونوں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تینوں ممالک مشترکہ طور پر جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کریں تو اس سے دنیا کو ایک اہم پیغام جائے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ جوہری تخفیف ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس اتنے جوہری ہتھیار ہیں، جو کرہ ارض کو 150 سے دفعہ تباہ کر سکتے ہیں۔ روس کے پاس بھی بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار ہیں، اور چین کے پاس جلد ہی ان کی ایک بڑی تعداد ہو جائے گی۔ ان کے پاس اب بھی اچھی خاصی تعداد میں ہتھیار ہیں ۔” اپنے حالیہ نیوکلیئر ٹیسٹ آرڈر کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چین اور روس بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ کر رہے ہیں، آپ کو اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



