امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ان دنوں چین کے دورے پر ہیں۔ بیجنگ میں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے امریکہ سے متعلق ایسا بیان دیا جس نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی طاقت کمزور ہو رہی ہے اور امریکہ اب زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ شی جن پنگ نے ایسا تبصرہ کیا تھا، تاہم ٹرمپ نے اس بیان کو کم کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر کا اشارہ دراصل جو بائیڈن کے دورِ حکومت کی ناکامیوں کی طرف تھا۔
ٹرمپ کا جواب
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ شی جن پنگ کا بیان بائیڈن انتظامیہ کے چار سالہ دور کی ناکامیوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ’سلیپی جو بائیڈن‘ کے دور میں امریکہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اس معاملے میں شی جن پنگ بالکل درست ہیں۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں امریکہ نے ریکارڈ ترقی کی ہے اور معیشت، روزگار، سرمایہ کاری اور فوجی طاقت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
شی جن پنگ کا اشارہ
اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ شی جن پنگ نے ’زوال پذیر امریکہ‘ والا بیان عوامی سطح پر دیا یا بند کمرے میں، لیکن ملاقات کے پہلے دن انہوں نے ’تھوسیڈائڈیز ٹریپ‘ کا ذکر ضرور کیا تھا۔یہ نظریہ بتاتا ہے کہ جب کوئی ابھرتی ہوئی طاقت کسی مضبوط اور قائم طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو تصادم تقریباً یقینی ہو جاتا ہے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے اور چین و امریکہ کو اس جال سے نکل کر تعلقات کا نیا ماڈل تیار کرنا ہوگا۔
تھوسیڈائڈیز ٹریپ کیا ہے؟
ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن نے اس نظریے کو مقبول بنایا تھا۔ ان کے مطابق قدیم یونان میں ایتھنز کے ابھار سے اسپارٹا کو خطرہ محسوس ہوا اور یہی خوف جنگ کی وجہ بنا۔شی جن پنگ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’مشرق کا عروج ہو رہا ہے جبکہ مغرب زوال کا شکار ہے۔‘‘
ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ان کے صدر بننے کے بعد گزشتہ 16 مہینوں میں امریکہ نے شاندار ترقی کی ہے۔ انہوں نے اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ، روزگار کے بہتر مواقع، نئی سرمایہ کاری، فوجی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابیاں قرار دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شی جن پنگ نے ان کی انتظامیہ کی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد دی۔
امریکہ کی صورتحال پر تبصرہ
ٹرمپ نے لکھا کہ ’’دو سال پہلے امریکہ زوال کی طرف جا رہا تھا، لیکن آج یہ دنیا کا سب سے تیزی سے ابھرتا ہوا ملک بن چکا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین اور امریکہ کے تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ بیجنگ دورے کے دوران ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی گفتگو نے بین الاقوامی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکہ میں شی جن پنگ کے بیان پر تیزی سے ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ ٹرمپ اسے بائیڈن حکومت کی ناکامی قرار دے کر اپنی کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں چین اور امریکہ کے تعلقات کس سمت جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
