امریکہ نے ایران کے ہتھیاروں اورڈرون پروگرام کے حوالے سے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے چین اورہانگ کانگ کی کمپنیوں سمیت 10 افراد اورکمپنیوں پرنئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کوڈرون، میزائل اورہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد اورٹیکنالوجی فراہم کررہی تھیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ 14 اور15 مئی کو چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ چینی صدرشی جنپنگ سے ملاقات کریں گے۔ تاہم چین نے تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے واضح طورپرکہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ ایران کی فوجی صنعت دوبارہ مضبوط ہو۔ محکمہ نے خبردارکیا کہ ایران کی حمایت کرنے والی غیرملکی کمپنیوں، بینکوں اورکاروباری اداروں کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے خاص طورپرچین میں چھوٹی پرائیویٹ آئل ریفائنریوں اورائیرلائنزکا ذکرکیا ہے، جن پرایران کی مدد کرنے کا الزام ہے۔
دبئی اوربیلاروس کی کمپنیوں پربھی پابندی
پابندیوں کی فہرست میں چین کی Yushita Shanghai International Trade Co Ltd بھی شامل ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی چین سے ایران کو ہتھیاروں سے متعلق سامان دلانے میں مدد کررہی تھی۔ دبئی کی Elite Energy FZCO پرالزام ہے کہ اس نے ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کو کروڑوں ڈالربھیجے، جوایران کے لئے سامان خریدنے کا کام کررہی تھی۔ ہانگ کانگ کی ایچ کے ہیسن انڈسٹری کولمیٹیڈ اور بیلا روس کی آرموری الائنس ایل ایل سی پرایران کے ہتھیارخرید نیٹ ورک میں ثالث بننے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں مسٹڈ لمیٹیڈ پرایران کے پاسداران انقلاب کے لئے ہتھیارخریدنے میں مدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
پابندی لگانے کی کیا ہے وجہ؟
ایران کی Pishgam Electronic Safeh Co پرڈرون میں استعمال ہونے والی موٹرخریدنے کا الزام ہے۔ چین کی Hitex Insulation Ningbo Co Ltd پربیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہونے والی میٹیلئرسپلائی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ان پابندیوں کے ذریعہ ایران کی طاقت کوکم کرنے کے لئے کوشاں ہے، خاص طورپرآبنائے ہرمزمیں جہازرانی اورخلیجی ممالک کے لئے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لئے۔ فروری میں امریکی اوراسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمزکوبند کردیا، جس سے عالمی سطح پرتیل اورگیس کی سپلائی متاثرہوئی اورقیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


