Bharat Express DD Free Dish

Trump-Netanyahu’s Rift Comes Into the Spotlight: ایران کے خلاف ساتھ لڑنے نکلے تھے ٹرمپ اور نتن یاہو، اب فون پر ایسی تو تو میں میں ہوئی کہ جنگ کا سارا بھوت ہی اتر گیا

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی اسٹریٹجک خلیج کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جہاں جنگ روک کر معاہدہ چاہتے ہیں، وہیں نتن یاہو ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے حامی بتائے جا رہے ہیں…

ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اندرونِ خانہ چل رہی بڑی کشمکش اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ جو دونوں ممالک کبھی ایران کو تباہ کرنے کے لیے شانہ بشانہ چلنے کے دعوے کرتے تھے، آج انہی کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان فون پر زبردست تکرار ہو گئی ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو (بی بی) کے درمیان ایران بحران کو لے کر فون پر انتہائی تلخ اور ’مشکل‘ گفتگو ہوئی۔ اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ہائی وولٹیج کال کے بعد نتن یاہو اس قدر پریشان اور غصے میں تھے کہ ان کے “بال کھڑے ہو گئے تھے”۔

ٹرمپ اور نتن یاہو میں اختلاف کس بات پر ہوا؟

اس پوری کشیدگی اور تنازع کی اصل وجہ دونوں ممالک کی الگ الگ حکمتِ عملیاں ہیں۔ ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت قطر اور پاکستان کی ثالثی سے ایران کے ساتھ ایک “امن ڈرافٹ” تیار کرکے جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نتن یاہو کا مؤقف بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ایران پر ذرا بھی بھروسہ نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے بجائے ایران کی فوجی طاقت اور اس کے جوہری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے آخری وار کیا جائے۔ یہی نظریاتی اختلاف اب دونوں پرانے اتحادیوں کو آمنے سامنے لے آیا ہے۔

کس بیان سے اسرائیل میں ہلچل مچ گئی؟

فون کال کے دوران ٹرمپ نے نتن یاہو کو صاف لفظوں میں بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک ایک “لیٹر آف انٹینٹ” تیار کر رہے ہیں، جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تاکہ باضابطہ طور پر جنگ روک کر 30 دن کی بات چیت شروع کی جا سکے۔ اس مذاکراتی عمل میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ اسی دوران ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے یہ کہہ کر اسرائیلی حلقوں میں ہلچل مچا دی کہ “نتن یاہو وہی کریں گے جو میں چاہوں گا۔” اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے تعلقات اچھے ہیں، لیکن اسرائیلی سفارت کاروں کی جانب سے امریکی اراکینِ کانگریس کے سامنے ظاہر کی گئی تشویش اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

’حج‘ کی وجہ سے ٹلا ایران پر امریکی حملہ؟

اس تنازع کے درمیان ’مڈل ایسٹ آئی‘ کی ایک رپورٹ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی ہوا ہے کہ امریکہ اسی ہفتے ایران پر بڑا حملہ کرنے والا تھا، لیکن آخری وقت میں اسے روک دیا گیا۔ خلیجی ممالک اور خود امریکی حکام نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ مقدس حج کے دوران جنگ دوبارہ شروع ہونے سے سعودی عرب میں موجود لاکھوں زائرین پھنس سکتے ہیں۔ اس سے پوری مسلم دنیا میں امریکہ کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا، جس کی تلافی ناممکن ہوتی۔ اسی اسٹریٹجک دباؤ کے باعث ٹرمپ نے فی الحال حملہ روک دیا۔

14 نکاتی تجویز پر ٹکی نظریں

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا تو یہ جنگ ’بہت جلد‘ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ فی الحال قطر، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر مل کر اس امن تجویز کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی وزارتِ خارجہ بھی اپنے ’14 نکاتی تجویز‘ کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ تاہم سفارتی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ جیسے ہی حج کا مقدس مہینہ ختم ہوگا، مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر تباہ کن جنگ بھڑک سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read