Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

واضح رہے کہ یروشلم کے راموت جنکشن پر ہونے والے حملے میں حملہ آوروں نے ایک بس میں سوار ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے۔

ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن حملہ ہوا توجواب دیں گے۔ ایران نے فوجی تیاریاں تیزکردی ہیں اور اپنے جوہری پروگرام کوآگے بڑھا رہا ہے۔ کشیدگی کے باعث جنگ کا امکان بڑھ گیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ طے کریں گے کہ غزہ کا مستقبل کیا ہوگا۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں غزہ سے متعلق ایک بڑی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجیوں نے نصیر اسپتال کے علاقے پر حملہ کیا اور یقین دلایا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا، ’’آئی ڈی ایف غیر ملوث افراد کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتا ہے۔"

اسرائیل کے وحشیانہ اورجارحانہ اقدامات کی مذمت کے لیے دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخبردارکیا کہ غزہ پراسرائیلی فوجی یا سیاسی کنٹرول قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش محصورعلاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں عام شہریوں، طلباء، سماجی، مذہبی، سیاسی رہنماؤں اورمعروف سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت دہلی واطراف کی ریاستوں سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے نیتن یاہوکے گریٹراسرائیل بنانے والے بیان پرسخت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے بنجامن نیتن یاہوکو21ویں صدی کا ہٹلراورپاگل کتا قراردیا ہے۔

اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے مرکز میں حماس کا آخری گڑھ المواسی ہے۔ یہ ریتیلا علاقہ گھنی آبادی والا ہے، جہاں حماس کے جنگجوؤں کے چھپے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے اس قدم کی دنیا بھرمیں مذمت ہو رہی ہے کیونکہ اس سے غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

یہ سروے CGTN کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 9,093 افراد نے حصہ لیا اور 24 گھنٹوں کے اندر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی کے آتم نربھر بھارت مشن کے تحت، بھارت غیر ملکی انحصار کو کم کرنے اور ملکی دفاعی سازوسامان کی تیاری پر زور دے رہا ہے۔ باراک-8 جیسی منصوبہ بندیاں اس سمت میں سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔

غزہ جنگ کے بعد اسپین، ناروے، آئرلینڈ اور سلووینیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے میکرون کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو ملکی حل ہی واحد راستہ ہے۔