Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

بڑا امام باڑہ مسجد کے باہر احتجاج کررہے لوگوں کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر تھی۔ جبکہ تختی پر لکھتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ہیں۔ مظاہرین نے خامنہ ای کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان یورپی یونین کے 9 ممالک نے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے قبضے کوغیر قانونی تسلیم کرنا اورامن کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔

ایران کے ذریعہ اسرائیل کے بیرشیبا کے سوروکا اسپتال پرکئے گئے حملے کے بعد اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای پرسیدھا حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وزیردفاع کیٹز کے مطابق ایران نے جنگی جرم کیا ہے اوراس کے لئے راست طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای ذمہ دارہیں۔ ہم اب ان کو ہی ختم کردیں گے۔

ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ پیش رفت کو لے کر ’’نہایت فکرمند‘‘ ہے اور بدلتی ہوئی صورت حال کی ’’قریب سے نگرانی‘‘ کر رہا ہے۔

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں نمایاں طور پر کشیدگی بڑھ گئی اور طویل عرصے سے چلے آ رہے دو حریفوں کے درمیان وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ حملے تہران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے خدشات اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے مبینہ خطرے کے درمیان ہوئے ہیں۔

سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں کو سرکاری چینلز کے ذریعے اپ ڈیٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مشن کے ساتھ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا۔ یہ ایڈوائزری اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایران پر اس کے قبل از وقت حملے کے بعد خصوصی ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ صورت حال بدستور غیر مستحکم ہے۔ تہران میں دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ اسرائیل بھر میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔