Bharat Express DD Free Dish

Israel Attack on Rafah: رفح پرحملے کے بعد بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائے گا اسرائیل، کس نے کی یہ پیشین گوئی؟،

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ رفح میں حملے کے بعد بھی اسرائیل حماس کو پوری طرح سے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل نے ابھی تک کوئی ٹھوس وار پلان نہیں دیا ہے۔

رفح میں اسرائیل کی طرف سے حملہ جاری ہے۔

امریکہ کی وارننگ کے بعد بھی اسرائیل غزہ کے آخری شہررفح پراپنی کارروائی روکنے کو تیارنہیں ہے۔ تقریباً 14 لاکھ فلسطینی رفح کی گھنی آبادی میں زندگی گزاررہے ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد سے بھی زیادہ وہ لوگ ہیں، جو جنگ کے بعد غزہ کے دوسرے حصے سے بھاگ کرآئے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے وارننگ دی تھی کہ غزہ میں بڑا فوجی آپریشن ایک بڑے انسانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اتوارکو امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ رفح پرحملے کے بعد بھی اسرائیل حماس کو ختم نہیں کرپائے گا، بلکہ اس کارروائی سے بدامنی پھیلے گی۔

امریکہ مسلسل رفح میں اسرائیل کی بڑی فوجی کارروائی روکنے کے لئے دباؤ بنا رہا ہے۔ اسی ضمن میں امریکی قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے اپنے اسرائیلی کاؤنٹرپارٹ تجاچی ہانیگبی کے ساتھ ایک کال میں غزہ میں اسرائیل کے حملوں سے متعلق واشنگٹن کی تشویش پرزور دیا۔ سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے رفح پرکنٹرول لینے کے بعد سے تقریباً 3 لاکھ فلسطینی رفح سے بھاگ چکے ہیں۔

حملے سے نہیں ملے گی کامیابی

میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرخارجہ نے اتوارکے روز کہا کہ جنگ رکنے کے بعد کے پلان کے بغیر رفح میں فوجی آپریشن سے اسرائیل حماس کو پوری طرح نہیں مٹا پائے گا۔ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے سامنے ابھی تک کوئی ٹھوس پوسٹ وار پلان نہیں رکھا ہے، جنگ کے بعد غزہ میں حکومت کون چلائے گا، کیسے حکومت چلائی جائے گی۔ ان سب نکات کو حل کئے بغیرکوئی بھی اسرائیلی آپریشن غزہ میں صرف بدامنی ہی لائے گا۔

 بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read