Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

اسرائیل نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے اور اسے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہم آہنگی خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کر رہی ہے۔

اسرائیل کے وزیراعلیٰ بنجامن نیتن یاہو نے حماس کے غزہ کمانڈر محمد شنوار کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔ یہ حماس پر اسرائیل کا بڑا حملہ ہے۔ حالانکہ حماس نے ابھی اس پر کچھ نہیں کہا۔

ٹرمپ کے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے سے کئی بڑے تجارتی معاہدے ہوئے۔ اس بارے میں میڈیا میں کئی طرح کی باتیں کہی گئیں۔ خاص طور پر واشنگٹن کے قریبی اتحادی اسرائیل کو شامل نہ کرنے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے۔

نیتن یاہو نے بڑھتے ہوئے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس شرط پر تنازع ختم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ "اگر باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے، حماس اپنے ہتھیار ڈال دے، اس کے قاتل رہنما جلاوطن ہو جائیں اور غزہ کو غیر فوجی بنایا جائے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈروسانچزنےغزہ پرانسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اورکہا کہ غزہ میں تشدد کے چکرکوروکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اورناقابل قبول ہے اوریہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سابق وزیراعظم نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ سے مکمل انخلا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کا واحد راستہ مذاکرات اور فلسطینیوں کے جائز مطالبات کی منظوری ہے۔

ایلیگزینڈر کی رہائی نے غزہ میں جاری تنازع کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنا کنٹرول بڑھایا ہے، تقریباً ایک تہائی علاقے کو "سیکیورٹی زون" کے طور پر خالی کرا لیا ہے اور امداد کے داخلے کو روک دیا ہے۔

ان بیانات نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ عرب اتحادیوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس سے ٹرمپ کی سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی حکمت عملی پیچیدہ ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے زیر قیادت عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 59 اسیران غزہ میں باقی ہیں۔

آگ پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث اسرائیلی وزیر خارجہ نے یونان، اٹلی، بلغاریہ، کروشیا اور قبرص سے امداد کی اپیل کی ہے۔وزیر دفاع اسرائیل نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا ملک میں قومی سطح پر ہنگامی حالت جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔