Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت نے اپنے حکم میں قومی شاہراہوں کے اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول ڈھابے، ہوٹل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے غیر مجاز تعمیرات یا کاروباری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پون کھیڑا نے اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے منگل تک گرفتاری پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے منع کردیا۔ 15 اپریل کو سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس حکم پربھی روک لگا دی تھی، جس میں پون کھیڑا کو ایک ہفتے کی ٹرانزٹ بیل دی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ٹریبونل ووٹنگ سے دو دن پہلے تک زیر التوا درخواستوں کا فیصلہ کرے گا اور منظور شدہ درخواست دہندگان کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ تاہم صرف درخواست دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ کے بعد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی کسی بھی ریمارک کا اثر انیل امبانی کی جانب سے دائر دیوانی مقدمات کے حتمی فیصلے پر نہیں پڑے گا۔ عدالت نے زیر التوا مقدمات کی جلد سماعت کی بھی ہدایت دی،

تلنگانہ ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کو ایک ہفتہ کی پیشگی ضمانت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اب اس پرروک لگا دی ہے۔ عدالت نے پون کھیڑا کو آسام کی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سالیسٹر جنرل نے پوچھا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ضمانت کیوں دی جبکہ یہ معاملہ آسام میں ہوا، معاملہ بھی وہیں درج ہوا تو ضمانت تلنگانہ ہائی کورٹ نے کیوں دی؟

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اورریاست کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی پولیس اورسی آرپی ایف کے ذریعہ ایس آئی آرکے کام میں حصہ لینے والے مغربی بنگال کے عدالتی افسران کو تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیران کی سیکورٹی واپس نہیں لی جائے گی۔

اس سے قبل راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی عدالت نے جنوری 2026 میں لالو یادو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سخت ریمارکس دیتے ہوئے الزامات طے کیے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ زمین کے بدلے نوکری گھوٹالے میں لالو یادو،

یوپی ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل نے جمعرات، 9 اپریل 2026 کو عدالت میں رپورٹ پیش کی۔ کونسل نے بتایا کہ بازار کی 44 عمارتوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ان 44 عمارتوں میں صرف شوروم اور تجارتی کمپلیکس ہی نہیں بلکہ 6 اسکول، 6 اسپتال اور 3 بینک بھی چل رہے تھے۔

سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے ایس آئی آر کے پورے عمل کی قانونی اورآئینی حیثیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے لیے مقررہ اصول وضوابط اور شفافیت کے تقاضوں پرمکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔