Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے اشتعال انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) سے متعلق دائر تمام عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی ڈھانچہ کافی ہے اور عدالت مزید ہدایات جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد گجرات ہائی کورٹ کے 17 اپریل کے فیصلے پر بھی مؤثر طور پر روک لگ گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل ریاستی حکومت کو احمد آباد کے موٹیرا علاقے میں واقع تقریباً 45 ہزار مربع میٹر زمین پر قبضہ لینے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ یہ زمین نریندر مودی اسٹیڈیم کے قریب واقع ہے اور اسے مجوزہ اسپورٹس ڈیولپمنٹ زون کے لیے استعمال کیے جانے کا منصوبہ تھا۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پریہ کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے دونوں فریقین کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اس تنازع کو باہمی رضامندی اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ طویل قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے اپنے احکامات کی نقول تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کو فوری عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے دو ماہ بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت مقرر کی ہے تاکہ عمل درآمد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔

عدالت کی یہ آبزرویشن اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت کسی ریاست میں آئینی نظام کی ناکامی صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت جاری ہے اور اگلی سماعت جمعہ کو مقرر کی گئی ہے۔

جسٹس کرول کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کہا کہ قانون سازوں کا مقصد واضح ہے۔ ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کے باوجود، یہ قانونی مفروضہ کسی بھی بچے کو ’ناجائز‘ کا لیبل لگنے کے بدنما داغ سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے عدالتی نظام میں نچلی عدالتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ قوانین کی تشریح کرتے ہیں،

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔