Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت نے این ٹی اے کو ہدایت دی کہ وہ مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی موجودہ صورتحال سے متعلق حلف نامہ داخل کرے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے رادھا کرشنن بھی ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کریں،

اے پی سی آر نے دہلی فساد سازش معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے خالد سیفی کو دی گئی چھ ماہ کی عبوری ضمانت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف خالد سیفی اور تسلیم احمد کے لیے ایک بڑی راحت ہے بلکہ یہ آئینی حقوق، قانونی تقاضوں اور شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے عدالتی نگرانی کی اہمیت کی توثیق بھی ہے۔

دوسری جانب عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی مواد میں توازن اور غیر جانبداری ضروری ہے۔ بینچ نے نشاندہی کی کہ متنازعہ باب میں عدلیہ میں کرپشن کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا تھا، جبکہ عدلیہ کے مثبت پہلوؤں جیسے قانونی خدمات تک رسائی اور ججوں کے کردار کو نظر انداز کیا گیا

چیف جسٹس آف انڈیا کے بیان کی مخالفت میں شروع ہوئی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا ایکس اکاونٹ بند کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے انٹرنیٹ پر اس پارٹی سے متعلق مختلف طرح کی قیاس آرائیاں ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نامی یہ آن لائن مہم 16 مئی کو شروع کی گئی۔

بینچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے توعدالتیں یواے پی اے کے معاملات میں ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے وقت اس فیصلے کو مدنظرنہیں رکھا۔

پریانکا چترویدی نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عدلیہ کی تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں۔پریانکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود ایک ایسے معاملے پر فیصلہ نہیں آیا ،

چیف جسٹس سوریہ کانت نے مزید کہا کہ ’’کچھ نوجوان ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی پیشے میں جگہ، پھر ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن اور دیگر سرگرم کارکن بن کر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اناؤ ریپ کیس کے مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرنے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر نئے سرے سے سماعت کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر فیصلہ سنائے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 35 سال پرانا فوجداری مقدمہ ختم کر دیا۔ یہ مقدمہ کمبھ میلہ ڈیوٹی کے دوران پولیس میس میں کھانے کے تنازع سے متعلق تھا، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل کے خلاف 1991 سے کارروائی جاری تھی۔ عدالت عظمیٰ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فوری انصاف آئین کے آرٹیکل 21 کا بنیادی حصہ ہے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔