Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔

روس سے دوستی نبھانا ہندوستان کو مہنگا پڑگیا ہے۔ امریکی صدرنے روس سے خام تیل کی درآمد کرنے پرہندوستان پر25 فیصد ٹیرف لگا دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ ہندوستان گزشتہ کئی سالوں سے روس سے  سب سے زیادہ خام تیل درآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسی وجہ سے ہندوستان پر ٹیرف کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں بتایا کہ جنگ بندی کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم اونے فون کرکے اپیل کی تھی۔ ڈی جی ایم اونے کہا- بس کرو، بہت ہوگیا ہے۔ پاکستان گھٹنوں کے بل آنے پرمجبورہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی ملک نے بھارت کوکارروائی سے نہیں روکا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج دوسرے دن بھی آپریشن سندورپربحث ہورہی ہے۔ اس دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کوگھیرا۔ تاہم، جب انہوں نے پہلگام میں مارے گئے لوگوں کوہندوستانی قراردیا تولوک سبھا میں حکمراں جماعت کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

دھنکھڑسے پہلے کرن رجیجو عدلیہ سے ٹکراؤ کی وجہ سے وزیر قانون کا عہدہ کھو چکے ہیں۔ ملک کے نائب صدر جیسے عہدے سے استعفیٰ دینے کی وجہ عام نہیں ہے، لیکن جگدیپ دھنکھڑ کو لے کر بی جے پی کی سوچ بدلنے کی وجہ بڑی ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن 21 جولائی کی رات نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے صدرجمہوریہ دروپدی مرموکو خط لکھ کر کہا کہ وہ اپنی صحت کا دھیان رکھنے اور ڈاکٹروں کے مشورے کو مانتے ہوئے فوری اثر سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کی مدت اگست 2027 تک تھی، لیکن دوسال پہلے ہی عہدہ چھوڑدینا کئی سیاسی سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔

جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد اب نئے نائب صدرکے انتخاب کا عمل شروع ہوجائے گا۔ این ڈی اے جلد ہی امیدوارکا اعلان کر سکتا ہے، اس میں کئی اہم لیڈران کے نام سامنے آنے لگے ہیں۔ حالانکہ ابھی تک بی جے پی کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑنے اپنے استعفیٰ سے 11 دن پہلے 2027 میں ریٹائرہونے کی بات کہی تھی۔ وہ ہندوستان کے تیسرے نائب صدرہیں، جنہوں نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔