Bharat Express DD Free Dish

جموں وکشمیرکو ریاست کا درجہ کب ملے گا؟ فاروق عبداللہ کا مرکزی حکومت پرسخت حملہ

5 اگست کوجموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 اور35 اے کوہٹائے گئے 6 سال ہوجائیں گے، جس کے بارے میں فاروق عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرکوریاست کا درجہ کب واپس ملے گا؟ انہوں نے (بی جے پی) نے پچھلے 6 سالوں میں جموں و کشمیرمیں اصلاحات کے نام پرکیا کیا ہے؟

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے آرٹیکل 370 ہٹانے سے متعلق مودی حکومت پر سوال اٹھایا ہے۔

نئی دہلی: 5 اگست کو ہندوستان کے آئین سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے ہندوستان کے فیصلے کو 6 سال مکمل ہونے والے ہیں، جس سے متعلق نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت پرسخت سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں وکشمیرکوبہتربنانے کی سمت میں کیا کوششیں کی ہیں؟

5 اگست کو جموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 اور35 اے ہٹائے جانے کو6 سال ہونے جا رہے ہیں، جس سے متعلق فاروق عبداللہ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ جموں وکشمیرکو ریاست کا درجہ کب واپس ملے گا؟ انہوں نے (بی جے پی) گزشتہ 6 سالوں میں جموں وکشمیر میں سدھارکے نام پرکیا کیا ہے؟ مجھے یہ پورا بھروسہ ہے کہ ایک دن ان کو یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ یہاں (جموں وکشمیر) راج بھون میں ایک وائس رائے بیٹھے ہیں اوراہم شخص راج بھون میں بیٹھے وائس رائے ہی ہیں۔ اس نظام کوبدلنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ ایک جمہوری ملک ہے۔

سیکورٹی دعووں پر اٹھائے سوال

جموں وکشمیرکے کلگام میں جاری تصادم پرفاروق عبداللہ نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ دہشت گردی پوری طرح ختم ہوگئی ہے، لیکن جو لوگ یہ کہتے تھے کہ آرٹیکل 370 دہشت گردی کے لئے ذمہ دارہے، وہ کئی سالوں تک یہاں انچارج تھے۔ پہلگام حملے سے پہلے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سبھی دہشت گردانہ کیمپوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پڑوسی کے ساتھ چل رہی موجودہ جنگ میں دہشت گردوں کوپیچھے دھکیل دیا گیا ہے توپھراب کلگام میں تصادم کیسے ہو رہا ہے؟

اس سے پہلے پی ڈی پی صدراورجموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں وکشمیر سے 5 اگست 2019 میں خصوصی درجہ چھینا گیا تھا، تب جموں وکشمیرکے حالات سدھارنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن سچائی کچھ اورہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read