Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

شوپیاں ضلع میں ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی بڑی حد تک سیب کے کاروبار پر منحصر ہے۔ باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہیں کی تو موجودہ نقصان ایک بڑے اقتصادی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

تعمیر نو کا کام مکمل ہونے کے بعد گنیش پورہ اور بڈوان کے درمیان سڑک کا رابطہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی ترقی کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آصف نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے شروع ہی سے ان کا ساتھ دیا اور محدود وسائل کے باوجود کبھی بھی انہیں یہ کاروبار چھوڑنے کا نہیں کہا۔ آصف نے اپنی ابتدائی تعلیم عیش مقام سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اننت ناگ کا رخ کیا۔ خواب سے لے کر روزگار فراہم کرنے والے تک کا سفر— آصف احمد کی یہ کہانی ثابت قدمی، عزم اورکامیابی کی ایک بہترین مثال ہے۔

جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) بدھ کے روز ریاست کا درجہ بحال کرنے، آئینی تحفظ اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر مسائل کے مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہی ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سول سیکریٹریٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ارُو میں موجود اس قدیم پانی کی چکی سے فرید احمد خان اپنی روزی کماتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جسے ان کے آباؤ اجداد نسل در نسل نبھاتے آئے ہیں۔ ماضی میں بھی خاندان کے افراد اپنے روزگار اور گزر بسر کے لیے اسی چکی پر انحصار کرتے تھے اور آج فرید خان اس قدیم روایت کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔

این آئی اے نے عدالت کے سامنے اپنی درخواست میں کہا کہ ملزم تفتیش اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے فرار ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے بھی ملزم کو مفرور پایا۔ اس کے بعد عدالت نے این آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔این آئی اے کے مطابق اس کارروائی کا مقصد فرار ملزمان کو قانونی کارروائی کے دائرے میں لانا اور کیس کی تحقیقات کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

عمر عبداللہ نے پاکستان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی کے مسئلے کی بات آتی ہے تو پاکستان کی یہ ہمدردی کہاں چلی جاتی ہے؟ ہماری ندیوں کے استعمال کے حق کے معاملے میں اس نے کشمیریوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ6  ندیوں میں سے بھارت نے پنجاب میں بہنے والی تین ندیاں اپنے پاس رکھیں، جبکہ جموں و کشمیرسے متعلق تین ندیاں پاکستان کے حصے میں چلی گئیں۔

مسلسل بارش کے باعث پہاڑی اور حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ کھسکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے ساتھ ساتھ دریاؤں اور ندی نالوں کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے۔ بعض مقامات پر اچانک سیلاب کی صورتحال بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔بارش کے دوران پہاڑی سڑکوں پر پھسلن بڑھنے اور کئی مقامات پر حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث ٹریفک متاثر ہو سکتا ہے۔

پانی کے تیزبہاؤنے پل کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور ایشمقام-پہلگام روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا۔ حکام نے گاڑیوں کی آمدورفت عارضی طور پر روک دی ہے، جبکہ متاثرہ مقام پربحالی اور نقصانات کا جائزہ لینے والی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ سیلابی ریلوں کے باعث دریائے لدر اور قریبی ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو گئی، جس سے کئی مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور مقامی رہائشیوں و سیاحوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

بی جے پی کے ایک اور رکن اسمبلی سنیل بھاردواج نے کہا کہ 2014 کے بعد جموں و کشمیر کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ریاست کی شناخت دہشت گردی نہیں بلکہ سیاحت اور ترقی سے ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرحد پار سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں اب بھی ٹارگٹ کلنگ، سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سیاحوں کو نشانہ بنا کر وادی کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،