Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔

یہ دھماکہ کمل کوٹ سب-اسپیکٹر میں 12 انفینٹری بریگیڈ کے تحت کام کرنے والی 8 قومی رائفلز کی اپرگڑھ فارورڈ پوسٹ کے پاس ہوا۔ زخمی جوانوں کو فوج کے بیس اسپتال لے جایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حادثہ منگل کی صبح تقریباً 6 بجے پیش آیا۔ امرناتھ غار کے درشن کے بعد واپس آنے والی بس ہری گنیوان کے قریب اچانک بے قابو ہو کر سڑک پر پھسل گئی اور پلٹ گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی 118ویں بٹالین، ہند۔تبت سرحدی پولیس کے اہلکار اور مقامی سول پولیس موقع پر پہنچ گئے۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج یہ ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات بدتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو انہوں نے کھلی جیل بنایا ہے، پورے ملک کو یہ کھلی جیل بنا دیں گے۔ حکومت بہت مغرور ہوگئی ہے۔ اب اگر تبدیلی لائیں گے تو یہی نوجوان لائیں گے۔

مسلسل بارش کے باوجود ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) ،نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس(این ڈی آر ایف) اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جہاں سڑکوں کے ذریعے پہنچنا ممکن نہیں، وہاں کشتیوں، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

چناربک فیسٹیول میں چناربک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن میں ملک بھر سے تقریباً 200 ناشرین، 250 سے زائد بک اسٹالز اور 800 سے زیادہ ادیب، شاعر، فنکار، دانشور اور مفکرین شرکت کر رہے ہیں۔ فیسٹیول میں ادبی وثقافتی تقاریب میں کالج اور یونیورسٹی کے بچے بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس میں ایک مشاعرہ، شام صوفیانہ اورمظفرعلی جیسی اہم شخصیات سے مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدامنی منگل کے روز مسلسل سینتیسویں روز بھی برقرار رہی۔ راؤلکوٹ میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان خان نے پاکستان پر اس علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

راجوری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ماضی میں بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی فورسز مسلسل چوکس رہی ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر دہلی ہماری آواز نہیں سن رہی تو کیا ہمیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی پڑے گی؟

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں