جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے لیڈ رعمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں) پر کانگریس پارٹی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات میں جیت کے معاملے میں دوہرا معیار اپنانے کے مترادف ہے۔ جب وہ ہار جاتے ہیں تو ای وی ایم پر الزام لگایا جاتا ہے۔
عمر عبداللہ نے پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، “جب آپ ایک ہی ای وی ایم کا استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں سو سے زیادہ ممبران حاصل کرتے ہیں اور آپ اسے اپنی پارٹی کی جیت کے طور پر مناتے ہیں، تو آپ چند ماہ بعد یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ان ای وی ایم کو پسند نہیں کرتے ہیں، کیونکہ اب انتخابی نتائج اس طرح نہیں آرہے ہیں جس طرح ہم چاہتے ہیں۔” یہ پوچھے جانے پر کہ وہ بی جے پی کے ترجمان کی طرح بول رہے ہیں، اس پرعمر عبداللہ نے کہا، جو صحیح ہے وہ صحیح ہے۔” انہوں نے کہا کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ وفاداری کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔
سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر عمر کی رائے
عمر عبداللہ نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ جیسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی تعریف کی اور کہا، “ہر کسی کے خیال کے برعکس، میں یہ سمجھتا ہوں کہ دہلی میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اچھی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر ایک بہترین قدم ہے۔ ہمیں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی ضرورت تھی، پرانی عمارت اپنی افادیت کھو چکی ہے۔
‘ الیکشن نہیں لڑنا چاہیے’
ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ عام طور پراپوزیشن اور خاص طور پر کانگریس ای وی ایم پر توجہ دے کر غلط راستہ اختیار کر رہی ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس نے ای وی ایم اور انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پارٹیوں کو ووٹنگ سسٹم پر اعتماد نہیں ہے تو وہ الیکشن نہ لڑیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کو ای وی ایم سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کے بارے میں آپ کا موقف یکساں رہنا چاہیے۔‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
