Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

اضافی فورسزکی تعیناتی جموں وکشمیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر کی جائے گی۔ بالتال اور پہلگام دونوں راستوں پر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے یہ تعیناتی 25 جون سے پہلے مکمل کرلی جائے گی۔ سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے روڈ اوپننگ پارٹیز (آر او پی ایس) کی تعیناتی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔

ملاقات کے دوران سنیل شرما نے مرکزی وزیرِ داخلہ کو جموں و کشمیر میں زمینی سطح پر درپیش مختلف مسائل، عوامی خدشات اور انتظامی چیلنجز سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے کے عوام کی امن، ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات سے متعلق توقعات اور مطالبات بھی امت شاہ کے سامنے رکھے۔

ٹیم انڈیا کا اسکواڈ اعلان کرتے وقت چیف سلیکٹراجیت اگرکر نے عاقب نبی سے متعلق کہا تھا کہ جموں وکشمیر کے اس تیزگیند بازکے گزشتہ دونوں رنجی سیزن بہترین رہے ہیں، لیکن ہندوستانی حالات کو دیکھتے ہوئے ٹیسٹ اسکواڈ میں بہت سارے تیز گیند بازوں کو ایک ساتھ موقع دیا جانا ممکن نہیں ہے۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ صرف آن لائن نظام یا وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مضبوط معاشی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری تنازعات کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، تجارت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

 ستپال شرما نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دے دیا جائے گا۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ریاستی درجہ بحال ہو،

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اب جب ان کا اکاؤنٹ انڈیا میں کھولا جاتا ہے تو ایک پیغام آتا ہے، جس میں لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ قانونی مطالبے کے جواب میں محدود کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پل کا ایک حصہ اس وقت اچانک منہدم ہو گیا جب اس کی مرمت کا کام جاری تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی دوران ایک گاڑی کے گزرنے سے ڈھانچہ کمزور ہو کر گر گیا، جس کے باعث مزدور ملبے تلے دب گئے۔

حکم نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے اور خفیہ روابط رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کو بھارت سرکار نے سنہ 2019 میں پابندی عائد کرکے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ افراد ادارے کے انتظامی اور تدریسی امور میں شامل رہے اور ادارے کے کام کاج پر ان کا اثر و رسوخ پایا گیا۔