Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

 ستپال شرما نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دے دیا جائے گا۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ریاستی درجہ بحال ہو،

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اب جب ان کا اکاؤنٹ انڈیا میں کھولا جاتا ہے تو ایک پیغام آتا ہے، جس میں لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ قانونی مطالبے کے جواب میں محدود کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پل کا ایک حصہ اس وقت اچانک منہدم ہو گیا جب اس کی مرمت کا کام جاری تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی دوران ایک گاڑی کے گزرنے سے ڈھانچہ کمزور ہو کر گر گیا، جس کے باعث مزدور ملبے تلے دب گئے۔

حکم نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے اور خفیہ روابط رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کو بھارت سرکار نے سنہ 2019 میں پابندی عائد کرکے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ افراد ادارے کے انتظامی اور تدریسی امور میں شامل رہے اور ادارے کے کام کاج پر ان کا اثر و رسوخ پایا گیا۔

بیسرن وادی کے اطراف موجود یہ تمام مقامات جہاں قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، وہیں جغرافیائی لحاظ سے حساس بھی ہیں۔ ایل او سی کے قریب ہونے کے سبب یہاں مسلسل نگرانی، فوجی تعیناتی اور حفاظتی اقدامات ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ علاقے کشمیر کی سیاحت کا اہم حصہ ہیں اور ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے پیغام میں کہا کہ بس حادثے میں جانی نقصان کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کی۔

واقعے پرعمرعبداللہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

جمعہ کی رات شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے تیز جھٹکوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ رات 9 بج کر 42 منٹ پر آنے والے اس زلزلے نے دہلی-این سی آر سمیت کئی ریاستوں میں زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ اور جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے بعد لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ فوجیوں کو سخت موسمی حالات، محدود سہولیات اور طویل تعیناتی کے باعث کئی بار ذاتی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں عدالتوں تک رسائی یا قانونی مدد حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور حساس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکار بھی انصاف سے محروم نہ رہیں۔

ابتدائی طور پر مقامی انتظامیہ نے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم جب ریسکیو ٹیموں نے برف میں دبی گاڑیوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا تو ملبے سے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ 5 زخمیوں کو محفوظ نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔