Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

بیسرن وادی کے اطراف موجود یہ تمام مقامات جہاں قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، وہیں جغرافیائی لحاظ سے حساس بھی ہیں۔ ایل او سی کے قریب ہونے کے سبب یہاں مسلسل نگرانی، فوجی تعیناتی اور حفاظتی اقدامات ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ علاقے کشمیر کی سیاحت کا اہم حصہ ہیں اور ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے پیغام میں کہا کہ بس حادثے میں جانی نقصان کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کی۔

واقعے پرعمرعبداللہ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

جمعہ کی رات شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے تیز جھٹکوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ رات 9 بج کر 42 منٹ پر آنے والے اس زلزلے نے دہلی-این سی آر سمیت کئی ریاستوں میں زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ اور جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے بعد لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ فوجیوں کو سخت موسمی حالات، محدود سہولیات اور طویل تعیناتی کے باعث کئی بار ذاتی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں عدالتوں تک رسائی یا قانونی مدد حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور حساس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکار بھی انصاف سے محروم نہ رہیں۔

ابتدائی طور پر مقامی انتظامیہ نے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم جب ریسکیو ٹیموں نے برف میں دبی گاڑیوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا تو ملبے سے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ 5 زخمیوں کو محفوظ نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں آ کر پٹرول پمپوں یا گیس ایجنسیوں پر غیر ضروری بھیڑ نہیں لگانی چاہیے۔

جموں وکشمیر کے سانبا ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے پاس ایک گاوں میں سابق سرپنچ کے گھرکے باہر مشتبہ دھماکہ ہوا۔ دھماکہ سے دہشت پھیل گئی، لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ سونم وانگچک کو 26 ستمبر 2025 کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں راجستھان کی جودھپور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ان کے احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ ان واقعات میں چار افراد کی موت اور تقریباً 90 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے وانگچک کو حراست میں لے لیا تھا۔

آئی۔ ایم۔ سی۔ آر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اس حملے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔