Bharat Express DD Free Dish

Article 370

آرٹیکل 370 کی منسوخی کی ساتویں برسی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کا فیصلہ جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، کھیل اور صنعت و کاروبار کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں پہاڑی علاقوں میں آنے والی قدرتی آفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:"مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر امدادی و بچاؤ آپریشنز چلا رہی ہیں۔"

سپریم کورٹ نے 8 اگست کو جموں وکشمیرکی مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست کی سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہرکی ہے۔ یہ معاملہ ملک کے چیف جسٹس بی آرگوئی کے سامنے تھا۔ جسٹس گوئی نے واضح طورپرکہا کہ اس معاملے کی سماعت 8 اگست کوہوگی۔

آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس پر سیاسی ہنگامہ آرائی تیزہوگئی ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے 6 سال بعد بھی ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہم سے ہمارا آئین، جھنڈا اوربولنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہاں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

5 اگست کوجموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 اور35 اے کوہٹائے گئے 6 سال ہوجائیں گے، جس کے بارے میں فاروق عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرکوریاست کا درجہ کب واپس ملے گا؟ انہوں نے (بی جے پی) نے پچھلے 6 سالوں میں جموں و کشمیرمیں اصلاحات کے نام پرکیا کیا ہے؟

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ 2019 میں جو کہا گیا تھا اورآج کی حقیقت میں فرق ہے۔ پہلگام حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ کئی چیزیں ہیں، جس پرمرکزی حکومت کوجواب دینا ہوگا۔

خط مںک کہا گاا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے جموں و کشمر کے لوگ مسلسل مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ان کے آئی ر اور جمہوری حقوق پر بھی مبنی ہے۔ راہل گاندھی اور کھڑگے نے وزیر اعظم کے پہلے بیانات کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس کرنے کا یقین دلایا تھا۔

وزیر اعلیٰ موہن یادو نے مزید کہا کہ آئین ساز ڈاکٹر امبیڈکر نے جموں و کشمیر کو خصوصی مراعات دینے کے لیے دفعہ 370 کے نفاذ کی بھی مخالفت کی تھی۔ ڈاکٹر مکھرجی نے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا عزم کیا تھا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے پورا کر دیا ہے۔