نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 8 اگست کوجموں وکشمیرکومکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کے لیے رضا مندی ظاہرکی ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت آج 5 اگست کوکرنے پررضامندی ظاہرکی ہے، جس دن 6 سال قبل جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کومنسوخ کرکے ریاست مرکزکے زیرانتظام علاقوں میں دوخطوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ تب سے اب تک ریاست کی حیثیت بحال نہیں ہوسکی ہے۔ اب اس معاملے کی سپریم کورٹ میں 8 اگست کو سماعت ہوگی۔
مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پردرجہ دے گی، لیکن اپوزیشن پارٹیاں اورکئی دیگرتنظیمیں جلد ازجلد ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئروکیل گوپال شنکرنارائنن آج سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟
یہ معاملہ ملک کے چیف جسٹس بی آرگوئی کے سامنے تھا۔ گوئی نے واضح طورپرکہا کہ اس معاملے کی سماعت 8 اگست کوہوگی۔ یہ درخواست کالج کے استاد ظہوراحمد بھٹ اورکارکن خورشید احمد ملک نے عدالت میں داخل کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت کی عدم بحالی سے ریاست کے شہریوں کے بنیادی حقوق بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ یہ عرضی ریاست میں اسمبلی انتخابات کے دوران سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ جس پراب سماعت کی تاریخ طے کردی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے سنایا تھا اپنا فیصلہ
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


