Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

وائبریٹ ولیجز پروگرام، جو کہ 2022 کے مرکزی بجٹ میں ایک مرکزی امدادی اسکیم کے طور پر اعلان کیا گیا تھا،اس  کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سرحدوں کے قریب واقع دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں سے رابطہ، رہائش، توانائی

اسرائیل کے وحشیانہ اورجارحانہ اقدامات کی مذمت کے لیے دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخبردارکیا کہ غزہ پراسرائیلی فوجی یا سیاسی کنٹرول قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش محصورعلاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں عام شہریوں، طلباء، سماجی، مذہبی، سیاسی رہنماؤں اورمعروف سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت دہلی واطراف کی ریاستوں سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

گزشتہ دہائی میں بھارت کی آن لائن گیمنگ انڈسٹری نے بے پناہ ترقی کی ہے، جس کی بڑی وجہ سستا انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز کی وسیع رسائی، اور فِن ٹیک کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات میں ہنوستان کو علاقائی معاملات سے لے کر تجارتی امور تک ہر میدان میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔

اوڈیشہ قیادت کی مسلسل مرکز سے بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ ریاست، وکست بھارت کے وژن میں ایک فعال اور ثقافتی طور پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں جگن ناتھ کلچر کی جھلک بھی نمایاں ہے۔

آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس پر سیاسی ہنگامہ آرائی تیزہوگئی ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے 6 سال بعد بھی ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہم سے ہمارا آئین، جھنڈا اوربولنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہاں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

وزیراعظم مودی نے این ڈی اے کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں امت شاہ کی تعریف کی۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے نام پر ایک خصوصی ریکارڈ درج ہوگیا ہے۔

5 اگست کوجموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 اور35 اے کوہٹائے گئے 6 سال ہوجائیں گے، جس کے بارے میں فاروق عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرکوریاست کا درجہ کب واپس ملے گا؟ انہوں نے (بی جے پی) نے پچھلے 6 سالوں میں جموں و کشمیرمیں اصلاحات کے نام پرکیا کیا ہے؟

’’ہندوستان کے حقیقت پسندانہ فیصلوں نے نہ صرف عالمی منڈی میں استحکام قائم رکھا بلکہ قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا اور مکمل طور پر بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا۔‘‘