Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پہلی لسٹ جاری کر دی ہے جس میں تقریبا71 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔ اس لسٹ میں کئی بڑے اور پرانے چہروں کو دوبارہ موقع دیا گیا ہے، جس سے صاف ہے کہ پارٹی اپنے تجربہ کار رہنماؤں پر بھروسہ بنائے ہوئے ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو شام 6 بجے بہار میں این ڈی اے کارکنان سے بات چیت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ "میرا بوتھ سب سے مضبوط" مہم کے تحت ان سے جڑیں گے اور بہار اسمبلی انتخابات کے لیے جیت کا منتر پیش کریں گے۔ اس کی جانکاری خود پی ایم مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے دی۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔

مرکزی حکومت کا ریلوے نیٹ ورک توسیع منصوبہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات اور چھتیس گڑھ کے 18 اضلاع میں ریل رابطہ مضبوط ہوگا۔ تقریباً 86 لاکھ افراد کو براہ راست فائدہ ملنے کی امید۔

سِرجن (تخلیق) ہی دین دیال جی کی زندگی کا محور تھا اور ان کے لیے ملک سب سے اوپر تھا، دین دیال اُپادھیائے کے اصولوں کو عملی شکل دے رہی ہے مودی حکومت – کلراج مشرا

بونس دینے کا مقصد ریلوے ملازمین کو مزید بہتر کارکردگی کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ملازمین کے لیے اہم ہے بلکہ ریلوے کے مجموعی ترقی کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس سے ملازمین کا جذبہ بڑھے گا اور وہ اپنے کام میں مزید سنجیدگی سے حصہ لیں گے۔

بھارت کا ڈیجیٹل سفر محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ قومی تبدیلی کی کہانی ہے۔ وہ کہانی جو ابھی جاری ہے اور ہر دن ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے میڈیکل اور انجینئرنگ جیسی اعلیٰ تعلیم کو ہندی میں فراہم کرنا شروع کیا ہے۔

مرکزی وزیر نے بھارت کی قابل تجدید توانائی میں پیش رفت کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا ثمر قرار دیا اور کہا کہ ریاستیں بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

کانگریس کی حکمرانی کے دوران سیمی کنڈکٹرز اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں مواقع ضائع ہوئے۔ اس کے برعکس، مودی حکومت کی ’میک ان انڈیا‘ اور ’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘ جیسی مہمات نے بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا۔ کانگریس کی مخالفت اکثر سیاسی نمائش کے لیے ہوتی ہے، جبکہ مودی حکومت شمولیتی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کرتی ہے۔