کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘ والے نعرے اور خارجہ پالیسی کی ناکامی کا خمیازہ اب ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس سے صرف دس بڑے سیکٹروں میں ہی 2.17 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
.@narendramodi ji,
Your dear friend “Abki Baar, Trump Sarkar” has imposed 50% Tariffs on India, starting today.
We will lose an estimated ₹2.17 Lakh Crore as the first jolt to this Tariff, across 10 sectors alone.
Our Farmers, especially Cotton farmers, are badly hit. You… pic.twitter.com/e8rADq4hhr
— Mallikarjun Kharge (@kharge) August 27, 2025
کسانوں اور برآمداتی صنعتوں پر شدید اثر
کھڑگے نے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان ہندوستانی کسانوں، بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں کو ہوگا جن کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ انہوں نے کسانوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کا وعدہ کیا تھا، مگر عملی طور پر ان کے روزگار کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشییٹو (جی ٹی آر آئی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اس ٹیرف سے ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد متاثر ہوگا اور اس کا فائدہ چین کو پہنچے گا۔
روزگار پر گہرا بحران
کھڑگے کے مطابق، ٹیکسٹائل سیکٹر میں تقریباً پانچ لاکھ ملازمتیں براہ راست اور بالواسطہ خطرے میں ہیں، جبکہ جواہرات اور زیورات کے شعبے میں ڈیڑھ سے دو لاکھ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ سوراشٹر میں ہیرا تراشی اور پالش کے کام سے وابستہ ایک لاکھ مزدور پہلے ہی اپریل سے بے روزگار ہو چکے ہیں، جب سے ابتدائی 10 فیصد امریکی ٹیرف نافذ کیا گیا تھا۔
جھینگا فارمنگ اور دیگر شعبے بھی متاثر
کھڑگے نے کہا کہ جھینگا فارمنگ کرنے والے پانچ لاکھ کسانوں اور ان سے جڑے ڈھائی ملین افراد کی زندگیوں پر بھی یہ نیا ٹیرف خطرہ بن کر آیا ہے۔ چمڑے، سمندری مصنوعات، کیمیکلز، اسٹیل و ایلومینیم، زرعی مصنوعات، انجینئرنگ، شیشہ اور ڈیری پروڈکٹس جیسے شعبے بھی اس بحران کی زد میں ہیں۔
تجارتی معاہدوں میں ناکامی کا الزام
ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تجارتی معاہدے کرنے اور برآمداتی سیکٹروں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات یہی رہے تو آئندہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور معیشت میں سست روی طے ہے۔ ان کے مطابق یہ بحران کی شروعات ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

