Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی شروعات ہنگامے کے ساتھ ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے آپریشن سندوراورپہلگام حملے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا، جس سے لوک سبھا کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت معنیٰ خیزبحث کے لئے تیارہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کے علاوہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، روی شنکرپرساد، راجیو پرتاپ روڑی، پی پی چودھری، سپریا سولے اورکے سی وینوگوپال مواخذے کی تحریک پردستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ پارلیمنٹ اب جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے۔ وزیر اعظم مودی سیشن سے پہلے ملک کو پیغام دیں گے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکزی حکومت کو گھیرنے کے لیے 8 ایشوزکی فہرست تیارکی ہے۔ ایسے میں پہلے دن ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ اپوزیشن پارٹی سخت رویہ دکھا سکتی ہے۔

یہ اجلاس مودی حکومت کے تیسرے دور کی چوتھی پارلیمانی نشست ہوگی۔ اس سے قبل مانسون سیشن 2024، سرمائی اجلاس 2024 اور بجٹ اجلاس 2025 کئی اہم سیاسی اور قانون سازی کے لمحات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہو کر 21 اگست تک چلے گا۔ اس دوران کئی اہم بلوں پر بحث اور ان کی منظوری کا کام کیا جائے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس سیشن میں بغیر کسی رکاوٹ کے ضروری قانون سازی مکمل ہو۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے جھنڈے، پوسٹراوربینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر ’فلسطین آزاد ہو‘، ’غزہ زندہ ہے‘، اور’ظلم کے خلاف ہم ایک ہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مارچ کے آخری مرحلے میں مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کر یکجہتی کا پیغام دیا۔

انھوں نے گزشتہ 11 سالوں میں این ڈی اے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہم نے 60 کروڑ غریب افراد کو مکانات، بیت الخلا، گیس، بجلی اور مفت راشن فراہم کیا ہے۔

ہندوستان نے اپنی توانائی کی منتقلی کے سفر میں غیر رکازی ایندھن کے ذرائع سے پیرس معاہدے میں اس کے قومی سطح پر طے شدہ شراکت کے تحت طے شدہ ہدف سے پانچ سال پہلے اپنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50فیصد تک پہنچ کر ایک سنگ میل حاصل کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایاکہ بی جے پی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں رکھا جائے۔ یہ نوٹیفکیشن تمام بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ہم اس نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

حکومت کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ مکمل ریاست کی بہالی کیلئے چار اقدامات کرنے ہوتے ہیں ،تنظیم نو، حدبندی،الیکشن اور پھر ریاستی درجہ۔ تین ہوچکے ہیں ، چونکہ حدبندی ہوچکی ہے،الیکشن ہوچکا ہے، حکومت بن چکی ہے ،اس لئے  اب ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے۔