Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

ممتا بنرجی نے الزام لگایاکہ بی جے پی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں رکھا جائے۔ یہ نوٹیفکیشن تمام بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ہم اس نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

حکومت کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ مکمل ریاست کی بہالی کیلئے چار اقدامات کرنے ہوتے ہیں ،تنظیم نو، حدبندی،الیکشن اور پھر ریاستی درجہ۔ تین ہوچکے ہیں ، چونکہ حدبندی ہوچکی ہے،الیکشن ہوچکا ہے، حکومت بن چکی ہے ،اس لئے  اب ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے۔

حکومت کا یہ فیصلہ کسانوں اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کے لیے مفید ہے۔ جہاں پی ایم دھن-دانیا یوجنا دیہی معیشت کو مستحکم کرے گی، وہیں گرین انرجی میں سرمایہ کاری سے بھارت کو توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

جیسے جیسے ان 100 اضلاع میں ہدف شدہ نتائج میں بہتری آئے گی ، ملک کے لیے کارکردگی کے اہم اشاریوں کے مقابلے میں مجموعی اوسط میں اضافہ ہوگا ۔  اس اسکیم کے نتیجے میں اعلیٰ پیداواریت ، زراعت اور اس سے وابستہ شعبے میں ویلیو ایڈیشن ہوگا۔

کیرلا کی نرس نمیشا پریا کو یمن میں قتل کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ سال 2017 سے یمن کی جیل میں بند ہیں، لیکن اب ان کی پھانسی پر روک لگا دی گئی ہے۔ ہندوستانی حکومت اس حوالے سے بہت کوششیں کر رہی ہے۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سینئر اکیڈمک رول نبھانے والے عاشم کمار گھوش کو صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے ہریانہ کا گورنر بنایا ہے۔ انہیں ہائی ایجوکیشن میں کافی انتظامی تجربہ ہے، جس کا فائدہ اب ہریانہ کوملے گا۔ وہ جلدی ہی گورنر کا عہدہ سنبھالیں گے۔

کیرالہ کے ترواننت پورم میں وکست کیرلم سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ایل ڈی ایف نے دھماکہ خیز مواد گھوٹالہ، کوآپریٹیو بینک گھوٹالہ، اے آئی کیمرہ گھوٹالہ، لائف مشن گھوٹالہ، پی پی ای کٹ گھوٹالہ اور ملک کا سب سے بڑا ریاست کی سرپرستی میں سونے کی اسمگلنگ گھوٹالہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے نکسلی تحریک کے خاتمے، منی پور میں امن، اور آپریشن سندور پر روشنی ڈالی۔

جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظر تھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔