نمیشا پریا کی پھانسی ملتوی کردی گئی ہے۔
یمن کی جیل میں بند نمیشا پریا کی پھانسی ملتوی کردی گئی ہے۔ یہ فیصلہ نمیشا کے خاندان اورمقتول طلال عبدومہدی کے خاندان کے درمیان خون کی رقم پرکوئی حتمی سمجھوتہ نہ ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ پھانسی ملتوی ہونے کی اطلاع جیل حکام نے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مفتی ابوبکراحمد نمیشا کیس میں مقتول عبدومہدی کے اہل خانہ سے بات کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، پہلے دن کے مذاکرات مثبت رہے، جس کی وجہ سے مزید مذاکرات کی گنجائش باقی ہے۔ اس کے پیش نظرپھانسی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یمن کے محکمہ انصاف نے اس سے قبل جیل اتھارٹی سے نمشا پریا کو16 جولائی کوپھانسی دینے کوکہا تھا۔ نمیشا پراپنے کاروباری پارٹنرعبدو مہدی کوقتل کرنے کا الزام ہے۔
STORY | Nimisha Priya’s execution postponed
READ: https://t.co/u8elOlQIGU pic.twitter.com/9k64DrnHRW
— Press Trust of India (@PTI_News) July 15, 2025
بلڈ منی کے ذریعہ منانے کی کوششیں تیز
نمیشا پریا جوکہ 2008 میں کیرلاسے یمن پہنچی نمیشا پریا پر2017 میں طلال عبدومہدی کوقتل کرنے کا الزام لگا تھا۔ نمیشا تب سے یمن کی صنعا جیل میں قید ہیں۔ اسی سال کے شروع میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ پھانسی کی تاریخ کا اعلان بھی رواں ماہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد نمیشا کو بچانے کی کوششیں تیزہوگئیں۔ نمیشا پریا انٹرنیشنل کونسل کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی ہے۔ جو بلڈ منی کے حوالے سے مسلسل سرگرم ہے۔ درحقیقت یمن میں شرعی قانون کے تحت کہا جاتا ہے کہ اگرمتاثرہ کے اہل خانہ چاہیں تووہ رقم لے کرمجرم کومعاف کرسکتے ہیں۔
شوہراور بیٹی کی ہندوستان واپسی کے بعد یمن میں پھنس گئیں نمیشا
دراصل، کیرلا کے پلکاڈ کی رہنے والی نمیشا تقریباً دو دہائی قبل اپنے شوہراوربیٹی کے ساتھ یمن گئی تھی۔ وہ یہاں کام کررہی تھی۔ یمن میں خانہ جنگی کے باعث 2016 میں ملک سے باہرجانے پرپابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اس سے قبل ان کے شوہراوربیٹی 2014 میں ہندوستان واپس آگئے تھے، نمیشا واپس نہیں آسکیں۔ اس کے بعد اس پر2017 میں قتل کا الزام لگا اور عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

