Bharat Express DD Free Dish

J&K statehood issue ahead of Parliament session: جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرتے ہوئے وہاں کی منتخب حکومت کا حق واپس دیا جائے:سید ناصر حسین

حکومت کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ مکمل ریاست کی بہالی کیلئے چار اقدامات کرنے ہوتے ہیں ،تنظیم نو، حدبندی،الیکشن اور پھر ریاستی درجہ۔ تین ہوچکے ہیں ، چونکہ حدبندی ہوچکی ہے،الیکشن ہوچکا ہے، حکومت بن چکی ہے ،اس لئے  اب ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے۔

کانگریس پارٹی نے جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ تیز کردیا ہے ۔ اس سلسلے میں پارٹی صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے باضابطہ طور پر پی ایم مودی کو خط لکھ کر حکومت سے یہ درخواست کی ہے کہ آنے والے مانسون اجلاس میں ایک خصوصی بل کے ذریعے جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے ۔اب کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر سید ناصر حسین نے حکومت سے اس مطالبےکو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی ہے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن سید ناصر حسین نے کہا کہ پچھلے 5 سالوں  سے جموں کشمیر میں منتخب حکومت نہیں تھی اور یہ بھی پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا ہے اور اس کی حیثیت کو کم کر دیا گیا ہے۔ پہلے یونین ٹیریٹریز کو ریاستیں بنا ئی جاتی  تھیں ،لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہےکہ مودی حکومت نے ریاست کو توڑ کر یوٹی بنادیا ۔

حکومت کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ مکمل ریاست کی بہالی کیلئے چار اقدامات کرنے ہوتے ہیں ،تنظیم نو، حدبندی،الیکشن اور پھر ریاستی درجہ۔ تین ہوچکے ہیں ، چونکہ حدبندی ہوچکی ہے،الیکشن ہوچکا ہے، حکومت بن چکی ہے ،اس لئے  اب ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ چونکہ  مکمل ریاست کے بغیر، حکومت بے اختیار ہے، کیونکہ ایل جی کے پاس تمام اختیارات ہیں، لہذا ہم ریاست کے طور پر منتخب ہونے کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتے۔ اور وزیر اعظم نے 19 مئی کو بھونیشور میں کہا تھا کہ ریاست کا درجہ دیا جائے گا،لیکن اب اس کیلئے مزید کتنا اور کیوں انتظار کرنا پڑے گا۔ اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ جموں کشمیر کو اس کا حق واپس دیا جائے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read