Bharat Express DD Free Dish

Jammu Kashimir

جموں و کشمیر کے سیاسی تجزیہ کار رشید راحیل نے ’آپریشن سندور‘ کے بعد سندھ طاس معاہدہ روکنے کے ہندوستان کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ معاہدے کی منسوخی کا پہلا اثر جموں و کشمیر اور لداخ پر پڑے گا۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے Gen-Z سے متعلق بیان کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مخالفت کرنا ملک مخالف ہونا نہیں ہے۔

دہلی-این سی آر سمیت بھارت کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث جموں و کشمیر میں بھی لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی۔

یہ مال بردار ٹرین، جس میں 21 بی سی این ویگنوں میں سیمنٹ لادا گیا تھا، کشمیر میں سڑکوں، پلوں، عوامی بنیادی ڈھانچے، اور رہائشی منصوبوں کے لیے استعمال ہوگا۔ ناردرن ریلوے کے چیف پبلک ریلیشنز آفیسر ہمانشو شیکھر اپادھیائے کے مطابق، اس سفر کی منصوبہ بندی بڑی درستگی کے ساتھ کی گئی۔

آپ کو بتادیں کہ یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وائرل خبروں کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ یہ فائرنگ 10 سے 15 منٹ تک جاری رہی۔

ستیہ پال ملک نے اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں کئی پارٹیاں تبدیل کیں - کانگریس، جنتا دل، لوک دل اور آخر میں بی جے پی۔ لیکن ان کی شناخت ہمیشہ ایک جاٹ لیڈر اور کسان دوست چہرے کی رہی۔ وہ اپنے آپ کو لوہیا وادی نظریہ سے وابستہ سمجھتے تھے اور چودھری چرن سنگھ کو اپنا سیاسی گرو مانتے تھے۔

درخواست میں کہا گیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود، جو جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ وفاقیت کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ پانچ  اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دہشت گردی میں بھی ووٹ اور مذہب دیکھتی ہے۔ پہلگام حملے کی شام میں خود کشمیر گیا تھا،میں اس دن کو کبھی نہیں بھول سکتا ۔اس حملے کا جواب دینے کیلئے جو کچھ فوری اقدامات کئے جاسکتے تھے ،ہندوستان نے کیا۔

جموں و کشمیر اور لداخ کے اپنے سابقہ دوروں کو یاد کرتے ہوئے جسٹس گوائی نے کہا کہ انہیں دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لوگوں سے بے پناہ پیار ملا۔مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے آبائی شہر میں آیا ہوں۔ مجھ پر جو پیار اور محبت کی بارش ہوئی اس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔