Bharat Express DD Free Dish

Jammu Kashimir

پہلگام حملے کے بعد ہندوستان پاکستان کے خلاف بڑے ایکشن کی تیاری  کررہا ہے ۔آج شام سی سی ایس کی اہم میٹنگ ہونے جارہی ہے جس میں ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق کچھ سخت فیصلے لئے جاسکتے ہیں ۔

حکام کے مطابق، منگل کو جنوبی کشمیر کے ایک اہم سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

اسد الدین اویسی نے ایک بار پھر پہلگام حملے پر بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا، 'ہم کل پہلگام میں جو کچھ ہوا اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت ان دہشت گردوں کو سبق سکھائے گی۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں پانی داخل ہونے سے کئی لوگ گھروں میں پھنس گئے ہیں، جنہیں بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو ٹیم نے اب تک 90 سے 100 افراد کو علاقے سے بحفاظت نکال لیا ہے۔

ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ ہمیں اپنے لوک فنون، روایتی دستکاری، ثقافتی روایات اور قدیم علمی نظام کو بچانے کے لیے کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ سائنس دانوں، فنکاروں اور روحانی گرووں کو 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ جہاں اقوام متحدہ کے اجلاس میں امن قائم کرنے میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کی گئی، ہندوستان نے اس موقع کو مسلح گروہوں اور جدید ہتھیاروں سے لاحق خطرات جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دینے کے لیے استعمال کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ  ہمارے آئین میں امن و امان کی ذمہ داری ریاستوں پر ہے۔ بارڈر سیکیورٹی اور اندرونی سیکیورٹی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے۔ یہ ایک درست فیصلہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کارروائی کے حوالے سے وزارت نے کہا ہے کہ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ ملک کی سالمیت، خود مختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

کشمیر کے اعلیٰ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے  کے نام پر اس طرح کی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے  کہ یہ ایک پرائیویٹ پارٹی تھی، اس لیے اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی مسئلہ کشمیر پر بیان دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو خالی کرکے مسئلہ کشمیر کو مکمل طور پر حل کیا جائے گا۔