لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون سیشن پیر کے روز (21 جولائی) کو شروع ہوگیا ہے۔ پہلے ہی دن ہنگامہ کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا پڑا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے آپریشن سندور اور پہلگام حملے پرایوان میں بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ اس کی وجہ سے لوک سبھا اسپیکر نے ایوان کی کارروائی پہلے 12 بجے پھر 2 بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔ اسی درمیان لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بڑا بیان دیا ہے۔
اپوزیشن نے حکومت پرلگایا الزام
راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میں اپوزیشن کا لیڈر ہوں، لیکن مجھے ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لئے ملتوی ہونے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’سوال یہ ہے کہ جو ایوان میں وزیر دفاع کو بولنے دیتے ہیں، ان کے (حکومت) لوگوں کو بولنے دیتے ہیں، لیکن اگر اپوزیشن کا کوئی لیڈر کچھ کہنا چاہتا ہے تو اجازت نہیں ہے۔ میں اپوزیشن لیڈر ہوں، میرا حق ہے، تو مجھے کبھی بولنے نہیں دیتے ہیں۔ یہ ایک نیا طریقہ ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ روایت کہتا ہے کہ اگرحکومت کی طرف سے لوگ بول سکتے ہیں تو ہمیں بولنے کی جگہ ملنی چاہئے۔ ہم دو لفظ کہنا چاہتے تھے، مگر اپوزیشن کو اس کی اجازت نہیں ہے۔
بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج
وہیں، پہلگام حملے اور آپریشن سندورپر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی نعرے بازی پر مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت بحث کے لئے تیار ہے۔ آج بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا وقت طے ہوا ہے۔ ڈھائی بجے سارے اراکین کی میٹنگ ہوگی، جس میں کس کس موضوعات پر تبادلہ خیال کرنا ہے، یہ طے ہوگا۔ حکومت بحث کے لئے بزنس ایڈوائزری لے کر آرہی ہے اور اپوزیشن کے وہیل میں آکرہنگامہ کررہا ہے۔ ہم نے شروع سے اپیل کی ہے کہ مانسون سیشن میں معنیٰ خیز بحث ہونی چاہئے۔ مانسون سیشن کے پہلے دن اس طرح کی مخالفت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

