Bharat Express DD Free Dish

Parliament Monsoon Session 2025

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایس آئی آرسمیت مختلف مسائل پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہرتک ملتوی کرنی پڑی۔ ناراض لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ممبران پارلیمنٹ کو خبردارکیا کہ عوام نے انہیں سرکاری املاک کوتباہ کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا ہے اوراگرحالات بہترنہیں ہوئے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کے پہلے روز، یعنی 21 جولائی کو، نئے انکم ٹیکس بل پر پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کی گئی تھی۔

بہارمیں ووٹرلسٹ کے اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں بحث کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے کارروائی ملتوی کردی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین اورلوک سبھا اسپیکرنے پارلیمانی ضوابط پرعمل کرنے کی اپیل کی۔ کانگریس اورڈی ایم کے نے بحث کے لئے نوٹس دیئے، جبکہ انڈیا الائنس نے احتجاج کیا۔

ایس جے شنکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹوکتے ہوئے کہا:"میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کان کھول کر سن لیں۔ 22 اپریل سے 16 جون تک، ایک بار بھی وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں بتایا کہ جنگ بندی کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم اونے فون کرکے اپیل کی تھی۔ ڈی جی ایم اونے کہا- بس کرو، بہت ہوگیا ہے۔ پاکستان گھٹنوں کے بل آنے پرمجبورہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی ملک نے بھارت کوکارروائی سے نہیں روکا۔

لوک سبھا میں پہلگام اورآپریشن سندورپربحث میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ 190 ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ایک بار پھرپاکستان کوسخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب ایٹمی دھمکیاں نہیں چلے گی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔

آپریشن سندورپربحث کے دوران پارلیمنٹ میں ایک لمحہ ایسا آیا، جب جے پی نڈا کو معافی مانگنی پڑی۔ سینئر رکن پارلیمنٹ اور کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے بولنے کے بعد جے پی نڈا بولنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ وزیراعظم مودی کے لئے کھڑگے کے استعمال کردہ الفاظ پرسوال اٹھا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ ہوگیا۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج دوسرے دن بھی آپریشن سندورپربحث ہورہی ہے۔ اس دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کوگھیرا۔ تاہم، جب انہوں نے پہلگام میں مارے گئے لوگوں کوہندوستانی قراردیا تولوک سبھا میں حکمراں جماعت کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔

سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم پرتنقید کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کربہت افسوس ہوا کہ کل اس ملک کے سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟