ایم آئی ایم کے سربراہ اسدا الدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے جمعرات کے روز چین سے متعلق مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ اویسی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11 برسوں میں بھارت عالمی سطح پر ’’کمزور‘‘ ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری مرکز کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 18 سے 19 اگست تک ہندوستان کا دورہ کیا اور متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔
اویسی نے وزیر خارجہ جے شنکر سے پوچھے سخت سوالات
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں اویسی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے متعدد سوالات کیے۔ اویسی نے پوچھا کہ ’’کیا واقعی وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب سے کہا کہ ’تائیوان چین کا حصہ ہے؟‘ ہم نے تو 2011 کے بعد سے ایسا کہنا بند کر دیا تھا، جب بیجنگ نے کچھ ہندوستانیوں کو ’اسٹیپل ویزا‘ دینا شروع کیا تھا۔ کیا چین نے ویزا پالیسی میں کسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے؟‘‘ اویسی نے مزید پوچھا کہ ’’کیا چین نے پاکستان کو فوجی مدد دینا بند کر دی ہے، جیسا کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں کے دوران کیا تھا؟ کیا ہندوستان نے بیجنگ پر یہ واضح کیا کہ اگر وہ پاکستان کے ذریعے ہمیں نقصان پہنچاتا ہے تو دوستی ممکن نہیں؟ کیا چین نے تجارتی خسارہ کم کرنے کی کوئی یقین دہانی کرائی ہے یا ہم مزید دو طرفہ تجارت کر کے خسارہ بڑھانے جا رہے ہیں؟‘‘
چین کے ساتھ تعلقات سے ہندوستان کو ہر شعبے میں اٹھانا پڑا ہے نقصان: اویسی
اسدالدین اویسی نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات میں ہنوستان کو علاقائی معاملات سے لے کر تجارتی امور تک ہر میدان میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کی چین سے متعلق پالیسی ایک کے بعد ایک ناکامی کی مثال ہے۔ 11 سال میں ہم کمزور اور پچھلی صف میں کھڑے نظر آئے ہیں۔ حکومت کی مسلسل خاموشی دراصل اس کی ناکامی کا اقرار ہے۔‘‘
The Modi govt China policy has been a series of Flip -Flops ,which has left India weaker & in an inferior position after 11 years .From Territory to Trade India has suffered in all domains.The lack of answers from the government is an acknowledgement of it’s failures
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) August 21, 2025
مرکز نے کی وضاحت: تائیوان پر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں
دریں اثنا سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ تائیوان سے متعلق ہندوستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا تائیوان کے ساتھ رشتہ اقتصادی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون پر مبنی ہے اور ہم اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ حکومت کی طرف سے یہ وضاحت چین کے اُس بیان کے بعد دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


