Urdu Conclave 2026

فلم ادے پور فائلز پر جمعیۃ علماء ہند کی بروقت مداخلت میں کتنی ملی کامیابی؟ 61 قابل اعتراض مناظرفلم سے ہٹائے گئے

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی کے ذریعہ شروع کی گئی تین سطحوں پر(سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن، دہلی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ) بروقت قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں متنازعہ ہندی فلم ’ادے پورفائلز‘ سے کل ملاکر61 قابل اعتراض مناظرفلم سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔  مولانا ارشد مدنی کاسب سے بڑا اعتراض نوپورشرما کے اس بیان پرتھا، جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورامہات المومین کے تعلق سے دیا تھا۔ اب فلم سے یہ پورا منظرنامہ کلی طورپرہٹا دیا گیا ہے۔

قابل ذکرہے کہ مولانا ارشد مدنی کی طرف سے داخل پٹیشن پردہلی ہائی کورٹ نے غیرلائنس شدہ اس ٹریلرکا بھی مشاہدہ کیا، جسے فلم کے پروڈیوسرنے غیر قانونی طورپرریلیزکیا تھا، جس میں دیوبند کا حوالہ ہی نہیں تھا بلکہ نوپورشرما کا وہ قابل اعتراض بیان بھی شامل تھا، جواس نے 2022 میں دیا تھا، گزشتہ 10 جولائی کواپنے ایک حکم نامہ میں دہلی ہائی کورٹ نے فلم کے ٹریلرکی ریلیزاورغیرقانونی طورپراسے ریلیزکرنے کے خلاف قانونی اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی، اس حوالہ سے مولانا مدنی کویقین ہے کہ حکومت مذکورہ ہدایت کے مطابق فلم پروڈیوسرکے خلاف قانونی کارروائی کرے گی، ہرچند کے سنسربورڈ نے 55 مناظرکوکٹ کرنے کے بعد فلم کوسرٹیفکیٹ دے دیا تھا، لیکن بعد میں مولانا ارشد مدنی کے نوپورشرما کے بیان سے متعلق سخت اعتراض کومرکزی حکومت نے بھی تسلیم کرلیا اور21 جولائی کوہی اسے فلم سے نکال دینے کی ہدایت بھی دے دی تھی، مگراب حکومت کی طرف سے مزید 5 مناظر کو فلم سے نکال دینے کی ہدایت دی گئی ہے، یہاں تک کہ فلم کے ساتھ جواعلان دست برداری جاتا ہے اس میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے کا الزام

اس سلسلہ میں مزید قانونی چارہ جوئی کے نتیجہ میں یعنی 6 اگست 2025 کوایک تازہ حکم نامہ جاری ہوا ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ نوپورشرما کے بیان سے جڑے ہوئے دوسرے قابل اعتراض مناظربھی فلم کے پروڈیوسرنے رضا کارانہ طورپرفلم سے ہٹا دیئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ واضح رہے کہ اس پوری فلم میں مسلمانوں کی شبیہ کوداغداربنا کرپیش کیا گیا تھا۔ مولانا مدنی نے اس کی سخت مذمت کی تھی اوراس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغازبھی کیا تھا اگرچہ فلم سے اشتعال انگیزاورتوہین آمیزمناظرالگ کئے جا چکے ہیں۔ تاہم یہ توقع تھی کہ حکومت اس فلم کا سرٹیفکیٹ رد کردے گی، مگرایسا نہیں ہوا۔

قابل اعتراض مناظر فلم سے ہٹا دیئے گئے

اس سلسلہ میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کودرست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظرکوبھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کوغلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔ اس فلم سے متعلق ہوئی قانونی لڑائی اوراس کا ماحصل ایسے فلم سازوں کے لئے ایک سخت تنبیہ ہے، جواس طرح کی فلمیں بنا کرفرقہ پرست طاقتوں کو خوش کرنے کی مذموم خواہش کے تحت ملک کے امن واتحاد اورفرقہ وارانہ یکجہتی کونقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ایک بڑا سبق ملے گا اوریہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اظہارکی آزادی کے نام پرآپ کسی فرد، برادری یا قوم کے مذہبی جذبات کوٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read