فلم ادے پور فائلز پر جمعیۃ علماء ہند کی بروقت مداخلت میں کتنی ملی کامیابی؟ 61 قابل اعتراض مناظرفلم سے ہٹائے گئے
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔
فلم ادئے پورفائلزکی ریلیزپرپابندی برقرار، ہائی کورٹ نے مقدمہ کودوبارہ رویژن اتھارٹی کے پاس بھیجا
گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔
Udaipur Files Case: فلم ادئے پور فائلزپرپابندی برقرار، مولانا ارشدمدنی کی فلم پرمکمل پابندی کی درخواست پر30 جولائی کوتفصیلی بحث ہوگی
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔
Udaipur Files Case: سپریم کورٹ نے فلم ادئے پورفائلز سے متعلق تمام عرضداشتوں کو دہلی ہائی کورٹ بھیجا، مولانا ارشد مدنی نے کیا یہ بڑا اعلان
سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ عدالت ان تمام عرضداشتوں کودہلی ہائی کورٹ کومنتقل کرسکتی ہے۔ منسٹری آف براڈ کاسٹنگ کے فیصلے کو ہم وہاں چیلنج کریں گے۔ فلم پروڈیوسرکی نمائندگی کرنے والے وکیل گوروبھاٹیا نے کہا کہ یہ جوعدالت میں ہورہا ہے نہایت عجیب ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، لیکن مولانا ارشد مدنی فلم پراسٹے کی گزارش کیسے کرسکتے ہیں۔
Udaipur Files Case: مولانا ارشد مدنی نے فلم ’ادے پور فائلز‘ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں داخل کیا حلف نامہ، اسکریننگ کمیٹی کے حکم پر اٹھائے سوال
مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے معاملے پر مرکوز ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
Centre Orders More Changes To “Udaipur Files” Movie: مرکز نے فلم ادے پور فائلز میں مزید تبدیلیوں کا دیا حکم،سپریم کورٹ نے ریلیز پر 23 جولائی تک بڑھائی روک
سماعت کے دوران، عدالت نے نوٹ کیا کہ سنیماٹوگرافی ایکٹ 1952 کی دفعہ 6 مرکزی حکومت کو فلم کی سرٹیفیکیشن ختم کرنے کا اختیار دیتی ہے اور دہلی ہائی کورٹ نے صرف رٹ درخواست گزاروں کو قانونی اختیار حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔
Udaipur Files Case: ادے پورفائلزکے فلم پروڈیوسرنے سپریم کورٹ میں داخل کی پٹیشن، مولانا ارشد مدنی کو بنایا فریق اول، جانئے پورا معاملہ
فلم پروڈیوسر کی قیادت کر رہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرس بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹر مالک انتظار کر رہے ہیں۔
Udaipur Files Case: فلم ادے پور فائلز کو روکنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی کوششیں جاری، مولانا ارشدمدنی کی جانب سے وزارت اطلاعات ونشریات کے روبرواپیل داخل
فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
Delhi High Court Stays release of Udaipur Files: دہلی ہائی کورٹ نے ’ادے پور فائلز‘ فلم کی ریلیز پر لگائی روک، مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا
جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظر تھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔
Udaipur Files Case: ادے پور فائلس پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا سخت تبصرہ، جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پرعدالت نے کہی یہ بڑی بات
دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر ہٹا دیئے گئے۔ سینسر بورڈ کے وکیل نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا۔





