Bharat Express DD Free Dish

Udaipur Files Case: فلم ادئے پور فائلزپرپابندی برقرار، مولانا ارشدمدنی کی فلم پرمکمل پابندی کی درخواست پر30 جولائی کوتفصیلی بحث ہوگی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

فلم ادے پور فائلز پر پابندی برقرار ہے۔

نئی دہلی:  فلم ادے پورفائلزنامی متنازعہ ہندی فلم کی نمائش سے متعلق آج دہلی ہائی کورٹ میں ایک بارپھرمعاملہ کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد حکم دیا کہ وہ آئندہ 30 جولائی کواس پرتفصیلی بحث کریں۔ آپ کوبتا دیں کہ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی چل رہی ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا، لیکن عدالت عظمیٰ نے تمام معاملات کو جوڑ کردہلی ہائی کورٹ میں بھی دیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی ٹیم ایک بارپھربحث کرنے کے لئے تیار ہے۔

فلم پرلگی ہوئی ہے پابندی

قابل ذکرہے کہ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ سے ہوتے ہوئے وزارت اطلاعات ونشریات تک پہنچا، پھروہاں سے سپریم کورٹ آف انڈیا، سپریم کورٹ میں سماعت ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک بارپھردہلی ہائی کورٹ آپہنچا ہے کیونکہ مولانا ارشد مدنی نے فلم کی ریلیزپرمکمل پابندی کی عدالت سے درخواست کی ہے۔ گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئے مالا باغچی نے فیصلہ صادرکرتے ہو ئے تمام فریق کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت دی تھی۔

 وزارت اطلاعات ونشریات نے 6 سین کٹ کرنے کی دی ہدایت

واضح رہے کہ مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریرہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پرنظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادرکرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکوہدایت دی ہے، لیکن وہ وزارت اطلاعات ونشریات کے اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ فلم میں ایک مخصوص فرقے کے خلاف نفرت آمیزمناظردکھائے گئے ہیں، لہٰذا عدالت کواس فلم کودیکھنا چاہئے۔

فلم میں مخصوص طبقے کے خلاف نفرت آمیزمواد استعمال کرنے کا الزام

عدالت کویہ بھی بتایا گیا کہ فلم میں نہ صرف ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت آمیزمواد موجود ہے بلکہ عدلیہ پربھی فقرے کسے گئے ہیں اورفلم میں دوایسے مقدمات کے تعلق سے بھی تبصرہ موجود ہے، جوفی الحال عدالت میں زیرسماعت ہیں، جن میں گیان واپی مسجد کا مقدمہ اورکنہیا لال قتل کا مقدمہ شامل ہیں۔ فلم پروڈیوسر کے وکیل گورو بھاٹیا نے مقدمہ کی جلد سماعت کئے جانے کی عدالت سے گزارش کی، جس پردہلی ہائی کورٹ کے چیف چیف جسٹس آف دہلی دیوندرکماراپادھیائے اورجسٹس تشارراؤ نے انہیں حکم دیا کہ اب اس مقدمہ کی سماعت پرسوں یعنی 30 جولائی کوکی جائے گی، تب تک فلم کی ریلیزپرپابندی جاری رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read