Bharat Express DD Free Dish

Udaipur Files

فلم ساز امت جانی نے ’ادے پور فائلز‘ کے بعد نئی فلم 'عائشہ' ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فلم مبینہ اسلامی دہشت گردی، لو جہاد، تبدیلی مذہب اور مذہبی جنون جیسے اہم اور سنگین موضوعات پر مبنی کہانیاں ہوں گی۔

گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے معاملے پر مرکوز ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

سماعت کے دوران، عدالت نے نوٹ کیا کہ سنیماٹوگرافی ایکٹ 1952 کی دفعہ 6 مرکزی حکومت کو فلم کی سرٹیفیکیشن ختم کرنے کا اختیار دیتی ہے اور دہلی ہائی کورٹ نے صرف رٹ درخواست گزاروں کو قانونی اختیار حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بی جے پی لیڈر گورو بھاٹیہ نے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ کا ذکر کیا اور جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر ہٹا دیئے گئے۔ سینسر بورڈ کے وکیل نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا۔