Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کر سکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔

جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہریوں کی مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔

سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طورپر2 بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزارروپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پرلانے میں مدد مل سکے۔

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس اجلاس سے آج فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف جوآوازاٹھی ہے نہ تواسے کوئی طاقت دباسکتی ہے اورنہ ہی کمزور کر سکتی ہے ، ایک دن اس آوازمیں بھی لاکھوں کڑوروں آوازیں شامل ہوں گی اورہم ملک سے فرقہ پرستی اورنفرت کو مٹانے میں کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے ایک بارپھروضاحت کی کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی تنظیم ہے اورسیاست سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہم نہ توالیکشن لڑتے ہیں اورنہ کسی کو لڑاتے ہیں بلکہ ہم ملک میں اتحاد اوریکجہتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد برادران وطن کو یہ باورکرانا ہے کہ نفرت تباہی اوربربادی ہی لاتی ہے، جس کا نظارہ ہم آج اپنی آنکھوں سے کررہے ہیں۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیردوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پرحتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج سنایا گیا، دورکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پربھی سماعت کی۔ کل 49 ملزمین میں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں۔ بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ کسی ثبوت کے بغیر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کے حصول میں 10 سال لگ گئے۔