Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کر سکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔
Arshad Madani on Demolition of Mosque: سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد گرائے جانے پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- بلڈوزر انصاف نہیں
جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہریوں کی مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔
Jamiat Ulema-e-Hind allocates huge amount for Assam Flood Victims: جمعیۃ علماء ہند اورجمعیۃ علماء آسام نے سیلاب متاثرین کے لئے مختص کی بڑی رقم، مولانا ارشد مدنی نے کیا بڑا اعلان
سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طورپر2 بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزارروپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پرلانے میں مدد مل سکے۔
’’مدارس کودہشت گردی کا اڈہ قراردینا انتہائی غیرذمہ دارانہ‘‘، مولانا سید ارشد مدنی نے یوپی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے ذریعہ مدارس سے متعلق دیئے گئے بیان کی سخت مذمت کی
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔
جمعیۃعلماء اترپردیش کے زیراہتمام منعقد ہندو-مسلم اتحاد کانفرنس، نفرت کے ماحول میں محبت کا چراغ جلانے کا عزم، مولانا ارشد مدنی نے فرقہ پرستی کے ماحول کوختم کرنے پر دیا زور
جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس اجلاس سے آج فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف جوآوازاٹھی ہے نہ تواسے کوئی طاقت دباسکتی ہے اورنہ ہی کمزور کر سکتی ہے ، ایک دن اس آوازمیں بھی لاکھوں کڑوروں آوازیں شامل ہوں گی اورہم ملک سے فرقہ پرستی اورنفرت کو مٹانے میں کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے ایک بارپھروضاحت کی کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی تنظیم ہے اورسیاست سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہم نہ توالیکشن لڑتے ہیں اورنہ کسی کو لڑاتے ہیں بلکہ ہم ملک میں اتحاد اوریکجہتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد برادران وطن کو یہ باورکرانا ہے کہ نفرت تباہی اوربربادی ہی لاتی ہے، جس کا نظارہ ہم آج اپنی آنکھوں سے کررہے ہیں۔
Muslims Organizations and Muslims leaders Meeting in Delhi: دہلی میں مسلمانوں کی اہم میٹنگ، مولانا ارشد مدنی، اسدالدین اویسی کے علاوہ مختلف مسلم جماعتیں اور اراکین پارلیمنٹ کی ہوگی شرکت، مسلمانوں کے مسائل پر ہوگا تبادلہ خیال
اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔
Ahmedabad Bomb Blast Case: احمد آباد ہائی کورٹ نے 38 ملزمین کو پھانسی اور11 ملزمین کوتاحیات عمرقید کی سزا کو برقرار، مولانا ارشد مدنی نے ناقابل یقین اورمایوس کن فیصلہ قرار دیا
گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیردوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پرحتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج سنایا گیا، دورکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پربھی سماعت کی۔ کل 49 ملزمین میں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔
ملک میں ایس آئی آریا این آرسی؟ ووٹ کے حقوق سے شہریت ثابت کرنے تک مولانا ارشد مدنی نے الیکشن کمیشن سے متعلق اٹھایا بڑا سوال
جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔
بلڈوزر انصاف نہیں انتقام اور نفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے: مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات پر اٹھائے سوال
جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں۔ بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کی ایک اور بڑی کامیابی، خصوصی سیشن عدالت نے مولانا عبد الرحمن کٹکی کو 10 سال بعد دہشت گردی کے الزام سے کیا بری
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ کسی ثبوت کے بغیر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کے حصول میں 10 سال لگ گئے۔





