Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

طالبان لیڈر اور افغانستان کے وزیرخارجہ ہفتہ کے روز دیوبند کا دورہ کرنے پہنچے ہیں۔ طالبان، دارالعلوم دیوبند کو مدارس اور اسلامی فکر کے لئے اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی نریندراورجسٹس آلوک مہرا کے سامنے آج جب یہ معاملہ بینچ کے سامنے پیش ہوا تو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی، جس پرعدالت نے فیصلہ صادرکیا کہ آئندہ 15 اکتوبر کو عدالت اس معاملہ پر باضابطہ سماعت کرے گی۔

مولانا ارشد مدنی کے حکم پرآج جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کی صوبائی یونٹ کے مختلف اضلاع سے جمعیۃ علماء کے کارکنان نے پنجاب میں آئے سیلاب اوراس سے ہوئے نقصانات والے علاقوں میں سب سے زیادہ جانی اورمالی نقصان ہونے والے علاقہ کا دورہ کیا۔

سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام ملزمین اورقومی تفتتیشی ایجنسی کونوٹس جاری کی گئی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ انصاف کے لئے جمعیۃعلماء ہند ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کریے گی۔

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

میوات کے لوگوں نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی  ہے۔ سکھ فرقہ کے رہنماؤں نے مولانا ارشد مدنی کی انسانی خدمات کو سراہا۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ کا یہی کردار ہے وہ اپنا ہرکام مذہب سے اوپراٹھ کرمحض انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے۔

 مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی طرف سے داخل اپیل میں این آئی اے پر ملزمین سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی حصول انصاف کے لئےجدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ کی دھامی حکومت کو6 ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدرسوں کو بند کرنے کی مہم، مسلمانوں کو آئینی اختیارسے محروم کردینے کی ایک بڑی سازش ہے۔

چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جی نریندر اورجسٹس آلوک مہرا نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست کو قبول کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبرکوکئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کوبھی حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل جمعیۃ علماء ہند ودیگرکی پٹیشن پراپنا جواب داخل کرے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔