Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

"اسرائیل کی نیت بالکل واضح ہے کہ جو بھی ملک اس کی دھونس کے خلاف کھڑا ہو، اسے تباہ کر دو — لیکن یہ سب کچھ امریکہ کی کھلی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔"

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مدراس مسلمانوں کی پہچان ہیں اور ہم اپنی اس پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے۔ ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں انہوں نے کہا کہ مدارس سے ہی ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی پہلی آواز اٹھی تھی، لیکن سازش کے تحت اب اسے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے متعین کی گئی پانچ پٹیشن میں مولانا ارشد مدنی کی پٹیشن کا پہلا نمبر ہے، جس پرسینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے آج بحث کی۔ اگلی سماعت پرعدالت وقف ترمیمات پرعبوری اسٹے کے تعلق سے ہی سماعت کرے گی، اس بات کا خلاصہ چیف جسٹس گوئی نے آج دوران سماعت کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان دونوں ایٹمی ملک ہیں، لیکن لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ہندوستان کے روپئے کی قیمت زمین پرآجائے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔

مولانا مدنی نے پہلگام واقعہ کے بعد ملکی میڈیا کی طرف سے اسے مذہبی رنگ دینے کی خطرناک سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مقامی لوگوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر حملے کے دوران اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں سے سیاحوں کو بچایا۔

جمعیۃ علماء ہند کی دوروزہ کانفرنس 4-3 مئی کونئی دہلی میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس میں وقف ایکٹ، پہلگام دہشت گردانہ حملہ، بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اورآئین کا تحفظ جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔ کانفرنس میں ملک بھرسے نمائندے شرکت کریں گے اورآئندہ کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کریں گے۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سانحے کو مذہب رنگ دینا غلط ہے۔ مرنے والوں میں نہ صرف ایک مسلمان شامل ہے بلکہ وہاں سے جوخبریں آرہی ہیں ان کے مطابق حملوں کے دوران مقامی لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کربہت سے سیاحوں کو بچایا اورزخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حملے کے بعد دیرتک وہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی، زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔

حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔