Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہمارامذہبی فریضہ ہے. رٹ پٹیشن میں نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روکنے کے لئے عبوری ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم ،جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے.

جمعیۃ علماء ہند نےعلامتی احتجاج کے طورپرخود کو سیکولر کہنے والی جے ڈی یو اورٹی ڈی پی جیسی پارٹیوں کی افطارپارٹی اورعید ملن اوردیگر تقریبات میں شرکت نہیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر نےکہا کہ بل کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے حوالہ کرنے کاڈھونگ بھی کیا گیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران کی تجاویز اور مشورہ کو رد کردیا گیا، جو 14 ترمیمات کی گئیں ان میں بھی شاطرانہ اندازمیں ایسی دفعات جوڑدی گئیں، جن سے اوقاف پرحکومت کے قبضہ کرنے کی راہ آسان ہوجائے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا ڈھونگ رچایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز اور سفارشات کو مسترد کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جو چودہ ترامیم کی گئیں ان میں بھی چالاکی سے ایسی شقیں شامل کی گئیں جن سے حکومت کو وقف املاک پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے اہم فیصلہ صادرکرتے ہوئے پچھلی سماعت پردیئے گئے اسٹے میں توسیع کردی، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تازہ عرضداشتوں پرنوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں بطورمداخلت کاردرخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جے پی سی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے متعلق کہا کہ یہ مسلمانوں کے آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کو خارج کرکے بل کو منظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے غیر آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کوخارج کر کے بل کومنظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ آئی پی سی کی دفعات بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں، ریاستوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ ملک میں گؤکشی کا قانون بھی ایک نہیں ہے، جوقانون ہے وہ پانچ ریاستوں میں نافذ نہیں ہے۔