Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani on Pahalgam Attack: پہلگام حملے پر مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان، انتظامیہ کی ناکامی پر اٹھایا سوال،کہا-امن پسند ہیں عام کشمیری

حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔

کشمیر کی  خوبصورت وادی  پہلگام میں انسانیت کو شرمسار کردینے والی دہشت گردانہ حرکت نے پورے ملک اور عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع پہلگام کے بائیسران علاقے میں پیش آیاتھا، جہاں دہشت گردوں نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے واپس بھارت لوٹ آئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

مولانا ارشد مدنی نے حملے کی مذمت کی

جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی  نے اس حملے کی مذمت کی اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔انہوں نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ‘جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کی جمعیۃ علماء ہند شدید مذمت کرتی ہے اور مہلوکین کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ کشمیر میں کڑی نگرانی کے باوجود دہشت گرد قتل اور لوٹ مار کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ کی ناکامی کے باعث امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والی قوتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئیں۔

جمعیۃ علماء ہند خاص طور پر مذہب کی بنیاد پر مجرمانہ کارروائیوں کو ملک کی تباہی اور ملک میں امن کا سبب سمجھتی ہے۔ دہشت گردوں کی اس گھنونی کارروائی سے جہاں شدید تشویش پائی جاتی ہے وہیں عام کشمیری بھی اس دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ مساجد سے اس طرح کی کارروائیوں سے نفرت کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیر کا عام مسلمان کشمیر میں امن کو فروغ دینا چاہتا ہے اور اس کے دل میں مذہب سے اوپر اٹھ کر بھائی چارے اور ہمدردی کا جذبہ مضبوط اور زندہ ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کشمیری امن برقرار رکھنے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

چار پاکستانی اور تین کشمیری دہشت گرد

ادھر وزارت دفاع میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی ہے جس کی صدارت وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کی ۔ اس میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال،سی ڈی ایس چیف، تینوں افواج کے سربراہان موجود تھے۔اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تینوں افواج کو الرٹ پر رکھا جائے اور لائن آف کنٹرول  پر اور کشمیر کے اندرونی علاقوں میں فوج کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ وہیں دوسری جانب جموں کشمیر پولیس نے دہشت گردوں کے سکیچز جاری کئے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کل سات دہشت گرد تھے جن میں سے چار پاکستانی تھے اور یہ سب دراندازی کرکے کشمیر آئے تھے ،تین مقامی ملیٹنٹ تھے جو پولیس کی وردی میں تھے۔ دہشت گردانہ حملے میں شامل عادل گری، اور آصف شیخ  کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ دونوں پاکستانی ہیں ۔

سیکورٹی اقدامات اور جاری تحقیقات

حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔ ایک گمنام عسکری گروپ “کشمیر ریزسٹنس” نے سوشل میڈیا پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے بھارت کی طرف سے “آبادیاتی تبدیلی” کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا۔ حکام اس گروپ کے دعوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

سیاحت پر اثرات اور مستقبل کے خدشات

پہلگام، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے “منی سوئٹزرلینڈ” کہلاتا ہے، سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ 2024 میں تقریباً 35 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا رخ کیا تھا، لیکن اس حملے نے سیاحت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مقامی لوگوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سیکورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ خطہ اپنی معاشی ترقی سے محروم ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ سیاحوں نے حملے کے باوجود کشمیر آنے کا عزم ظاہر کیا اور مقامی انتظامیہ سے تحفظ کی یقین دہانی مانگی۔ حکومت اب دہشت گردی کے خاتمے اور سیاحوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read