Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

این آئی اے کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام 7 ملزمین کوبری کر دیا ہے۔ اب جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اگست کے پہلے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ عدالت ان تمام عرضداشتوں کودہلی ہائی کورٹ کومنتقل کرسکتی ہے۔ منسٹری آف براڈ کاسٹنگ کے فیصلے کو ہم وہاں چیلنج کریں گے۔ فلم پروڈیوسرکی نمائندگی کرنے والے وکیل گوروبھاٹیا نے کہا کہ یہ جوعدالت میں ہورہا ہے نہایت عجیب ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، لیکن مولانا ارشد مدنی فلم پراسٹے کی گزارش کیسے کرسکتے ہیں۔

مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے معاملے پر مرکوز ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمین کو فوراً جیل سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو یعنی کہ عدالت نے سال 2006 سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزمین کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔

فلم پروڈیوسر کی قیادت کر رہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرس بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹر مالک انتظار کر رہے ہیں۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظر تھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر ہٹا دیئے گئے۔ سینسر بورڈ کے وکیل نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا۔