Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani on Waqf Act Amendment Bill: وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی، مولانا ارشد مدنی نے کہا- کسی بھی صورت یہ قبول نہیں

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جے پی سی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے متعلق کہا کہ یہ مسلمانوں کے آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کو خارج کرکے بل کو منظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں ورکنگ کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں ملک میں بڑھ رہی فرقہ واریت اور مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ، یکساں سول کوڈ، عبادت قانون کے ساتھ ساتھ فلسطین-اسرائیل جنگ بندی معاہدہ جیسے کئی دیگر اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران مولانا سید ارشد مدنی نے اپنی تقریر میں وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کو سبھی آئینی طریقوں اور مسلمانوں کے حقوق کو نظراندازکرتے ہوئے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے ذریعہ سے اسپیکرکے سامنے پیش کیا گیا۔ اسے آج مرکزی حکومت کے ذریعہ منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ وقف ترمیمی بل پر اعتراض جتاتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جن خدشات کا اظہارکیا جا رہا تھا، وہ درست ثابت ہوئی ہیں۔ ان ترامیم کے ذریعہ مرکزی حکومت وقف جائیدادوں کی صورتحال اور فطرت کو بدلنا چاہتی ہے تاکہ ان پر قبضہ کرنا آسان ہوجائے اور ان کا مسلم وقف کا درجہ ختم ہوجائے۔

ہم تانا شاہی قانون کو قبول نہیں کرسکتے: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ پہلے دفعہ 3 میں وقف بورڈ یہ طے کرتا تھا کہ کوئی وقف قانونی ہے یا نہیں، اب موجودہ ترمیم میں یہ حق کلکٹر کودیا گیا ہے۔ اب موجودہ 14 ترامیم میں جوکل پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں، نئی ترمیم کلکٹراورایک اعلیٰ سرکاری افسرکو تحقیقات کا اختیاردیتی ہے، جویہ فیصلہ کریں گے کہ جائیداد سرکاری ہے یا وقف اراضی۔ جب تک رپورٹ موصول نہیں ہوتی اس دن کے بعد سے جائیداد وقف نہیں سمجھی جائے گی، مثلاً اگر50 سال تک رپورٹ موصول نہ ہوتووہ جائیداد بھی وقف کی نہیں سمجھی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وقف یوزرکا مطلب ہے کہ وقف جائیداد جواپنی شکل یا استعمال کے لحاظ سے وقف سمجھی جاتی ہے اورزمانہ قدیم سے عدالتیں اس کے وقف کا فیصلہ کرتی رہی ہیں، وہ قابل قبول ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں کوئی تنازعہ نہ ہواورحکومت یا اس کے کسی ادارے کا اس پرکوئی دعویٰ نہ ہو۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے بعد وقف قاعدہ کوتبدیل کیا گیا۔ گرچہ اس میں ترمیم کی گئی ہے، لیکن اس میں بڑی ہوشیاری سے یہ اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومت مختلف بنیادوں پردعوے کرسکتی ہے۔

یعنی وقف املاک جیسے مسجد، قبرستان، مدرسہ، خانقاہ یا امام وغیرہ کی حیثیت درست ہوگی۔ لیکن وہ جائیدادیں جن پرپہلے سے قبضہ ہے یا جن پرکوئی تنازعہ یا قانونی چارہ جوئی چل رہی ہے۔ کیونکہ دہلی میں 123 جائیدادیں ہیں اوران کے خلاف بھی اسی طرح کے کیس زیرالتوا ہیں، اس لئے وہ وقف بائی یوزرکے اصول سے باہرہوں گے۔ عام فہم الفاظ میں اس طرح کی وقف املاک پرمسلمانوں کے دعوے قبول نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی ہوشیاری دیگرترامیم میں بھی اختیارکی گئی ہیں اس لئے ہم اس آمرانہ قانون کوقبول نہیں کر سکتے۔

پھر جمہوریت کی دہائی کیوں دی جا رہی ہے؟ مولانا ارشد مدنی کا سوال

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اورسبھی مسلم تنظیموں کی رائے اورمشورے کونظرانداز کرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کو خارج کرکے بل کو منظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔ یہ مسلمانوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر حکومت کو تانا شاہی اورطاقت کے ذریعہ ہی چلانا ہے توپھرجمہوریت کا راگ کیوں الاپا جا رہا ہے اورآئین کی دہائی کیوں دی جا رہی ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مایوس کن حقیقت اب سامنے آگیا ہے کہ حکومت میں شامل جو پارٹیاں خود کوسیکولرکہتی ہیں، انہوں نے بھی بزدلی اورخودغرضی کا مظاہرہ کیا ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read