Bharat Express

Waqf Act Amendment Bill 2024

پورے ملک میں وقف کی سب سے زیادہ زمین اتر پردیش میں ہے۔ اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کا انتظام وقف بورڈ کرتا ہے۔ یوپی کے اقلیتی بہبود کے وزیر دانش آزاد نے وقف جائیدادوں سے متعلق ڈیٹا جاری کیا ہے۔

پی ایم مودی نےکہاکہ کئی سالوں سے وقف نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان تھا، جس نے خاص طور پر مسلم خواتین، غریب مسلمانوں اور پسماندہ برادری کو نقصان پہنچایا۔ اب جو قوانین پاس ہوئے ہیں وہ اس نظام کو مزید شفاف بنائیں گے۔

کرن رجیجو ابتدائی طور پر اس بل کی خاصیت اور جے پی سی کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کررہے ہیں ۔اس کے بعد ایوان کے لیڈران اس پر بحث کریں گے اور اپنی اپنی بات رکھیں گے۔ حکمراں جماعت کی طرف سے جے پی نڈا،سدھانشو تریویدی سمیت کئی لیڈران اس پر بات رکھیں گے۔

جو پارٹیاں راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے ساتھ ہیں، ان میں اپیندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ سے ایک ایم پی، پتالی مکل کچی، تمل منیلا کانگریس، نیشنل پیپلز پارٹی، رامداس اٹھاولے کی ریپبلکن پارٹی آف انڈیا سے ایک ایک ایم پی اور دو آزاد ایم پی شامل ہیں۔

شرومنی اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بادل نے بل کی مخالفت کی اور بی جے پی کو اصلی 'ٹکڑے-ٹکڑے' گینگ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت لوگوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے وقف ترمیمی بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کو حاشیے پر لانے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے والا ہے

وقف ترمیمی بل 2024، جسے حکومت 1995 کے وقف ایکٹ میں کچھ بڑی تبدیلیاں کرکے آج لوک سبھا میں منظور کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ نئے وقف قانون کے بارے میں حکومت کے کیا دعوے ہیں؟ اپوزیشن یا مسلم کمیونٹی کے ایک بڑے طبقے کے خدشات کیا ہیں؟ وقف کیا ہے؟ کہاں سے آیا اور اس کی کل جائیداد کیا ہے؟ آئیے سبھی پر نظر ڈالتے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم اس وقف بل کے خلاف ہیں اور اس لئے خلاف ہیں کیوں کہ بی جے پی ہر جگہ مداخلت کرنا چاہتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ ہرچیز پر ہرجگہ اس کا کنٹرول ہوجائے۔

مذہبی رہنما افراہیم حسین نے وزیر اعظم کو خط بھیج کر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وقف املاک کی حیثیت کی تفصیلی تحقیقات کرائی جائے اور ان پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی نے وقف جائیدادوں کے تحفظ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اماموں اور مؤذنوں کے وظیفے میں اضافے کا بھی اعلان کیا