لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد وقف ترمیمی بل کو اب راجیہ سبھا میں پیش کیا جارہا ہے۔ مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا ہے۔ اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کرنے کے ساتھ ہی اب اس بل پر بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ کرن رجیجو ابتدائی طور پر اس بل کی خاصیت اور جے پی سی کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کررہے ہیں ۔اس کے بعد ایوان کے لیڈران اس پر بحث کریں گے اور اپنی اپنی بات رکھیں گے۔ حکمراں جماعت کی طرف سے جے پی نڈا،سدھانشو تریویدی سمیت کئی لیڈران اس پر بات رکھیں گے وہیں اپوزیشن کی جانب سے کانگریس نے عمران پرتاپ گڑھی کو آگے کیا ہے۔اس بل پر بحث کیلئے 8 گھنٹے کا وقت طے کیا گیا ہے البتہ اس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وقف ترمیمی بل 2024 راجیہ سبھا میں پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسیع بحث کے بعد تیار کردہ بل جے پی سی کو بھیج دیا گیاتھا۔ کسی کمیٹی نے وقف پر اتنا کام نہیں کیا جتنا جے پی سی نے کیا۔ دیر رات تک بحث کے بعد اس بل کو آج صبح لوک سبھا نے پاس کر دیا۔ کئی ارکان کا کہنا تھا کہ انہیں ترامیم کے لیے اتنا وقت نہیں ملا جتنا ملنا چاہیے تھا۔ بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے اسے آج ہی بحث کے لیے لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کے دوران بنائی گئی کمیٹیوں اور ایوان میں سچر کمیٹی کی سفارشات کا بھی ذکر کیا۔
کرن رجیجو نے کہا کہ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ ہم جو قدم اٹھا رہے ہیں اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ یہ ترمیم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ ہر ایک کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ ہم ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں میں کوئی غیر مسلم کسی بھی طرح سے مداخلت نہیں کرے گا۔ متولی ہمیشہ مسلمان ہوتا ہے۔ جو شخص وقف کرے گا وہ بھی مسلمان ہوگا۔ ہمیں اس بارے میں تجاویز درکار ہیں کہ وقف بورڈ کو جائیداد کے انتظام میں مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ وقف بورڈ کے ذریعہ اپنا ٹرسٹ چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو اجازت ہے۔ اگر کوئی اسے الگ سے چلانا چاہتا ہے تو اس کی بھی اجازت ہوگی۔ ہم نے شفافیت، جوابدہی اور درستگی پر مرکوز تبدیلیاں کی ہیں۔ ہم یہاں کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔ مسلمان وقف کر سکتے ہیں۔کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر تھوڑا سا کام کریں تو تین چار سالوں میں کروڑوں مسلمانوں کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔ جائیداد جو بھی ہو، ثبوت درکار ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



